سینٹ : احتساب ترمیمی آرڈیننس کیخلاف اپوزیشن کا واک آﺅٹ‘ رضا ربانی نے بھی ساتھ دیا ۔۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کا احتجاج

اسلام آباد (وقائع نگار + ایجنسیاں) حکومت کی جانب سے گذشتہ ماہ خاموشی سے جاری صدارتی احتساب ترمیمی آرڈیننس سینٹ میں پیش کرنے پر اپوزیشن جماعتوں نے زبردست احتجاج کیا اور چیئرمین کے اختیارات سلب کرنے پر ایوان سے واک آوٹ کیا‘ حکومت کو اس وقت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب پارلیمانی آئینی کمیٹی کے چیئرمین رضا ربانی نے بھی اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ جمعہ کو بابر اعوان نے احتساب ترمیمی آرڈیننس میں مزید ترمیم کا آرڈیننس پیش کیا۔ اپوزیشن نے حکومت پر شدید تنقید کی اور اسے بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس کو پبلک کئے بغیر ایوان میں پیش کرنا دونوں ایوانوں کی توہین ہے‘ ڈپٹی چیئرمین سینٹ نے مزید غور و خوض کے لئے اسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ ظفر علی شاہ نے کہا کہ اس آرڈیننس پر 16 ستمبر کو صدر پاکستان نے دستخط کئے تھے‘ 15 دن بعد اس کو ایوان بالا میں پیش کیا گیا ہے۔ ایوان بالا کوئی آرڈیننس جو قانون کی روح اور عوام کے خلاف ہوا اسے منسوخ کر سکتا ہے‘ چیئرمین نیب اپوزیشن لےڈر اور قائد ایوان کی مشاورت سے تعینات ہو سکتا ہے‘ پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ حکومت گناہ گار ہے اس لئے ایسے اقدامات کر رہی ہے۔ بابر اعوان نے ایوان کو بتایا کہ احتساب آرڈیننس میں تین ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ آرڈیننس 16 ستمبر کو گزٹ آف پاکستان میں شائع ہوا‘ شق 16-A میں مناسب ترمیم کی ہے جس کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے ساتھ ساتھ وفاقی دارالحکومت میں احتساب عدالت کے قیام کے بعد اب چیئرمین نیب کے ساتھ وفاق کو بھی یہ اختیار ہو گا کہ وہ نیب سے احتساب سے متعلقہ مقدمات کو اسلام آباد میں قائم ہونے والی نئی احتساب عدالت میں منتقل کر سکتا ہے‘ آرڈیننس کا ٹائٹل تبدیل کر کے بل اور نیب مقدمات میں گواہوں‘ پراسیکیوٹرز‘ ججز کو سکیورٹی فراہم کرنے کا اختیار وفاق کو بھی دیا ہے۔ نیب افسران کو ریکوری کی رقم سے کمیشن کو ختم کر دیا ہے۔ اپنی پارٹی سے کسی بھی سیف الرحمان کا نیب عدالت میں تقرر نہیں کر رہے‘ ان میں سے نہیں جو لندن میں جا کر بوٹوں والوں کے قدموں کی چاپ سنتے ہیں۔ اٹک قلعہ مسلم لیگ (ن) کی ایجاد ہے‘ ہم قواعد پر عملدرآمد کر رہے ہیں‘ پورے ملک میں 22 لاکھ احتساب کے مقدمات کھولے گئے ہیں‘ ان پر کوئی فیصلہ کرنے کو تیار نہیں ہے لیکن ایک شخص کے خلاف مقدمات کھولنے کے لئے ضد کی جا رہی ہے‘ این آر او سے ہی ملک میں جمہوریت‘ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس واپس آئی تھیں۔ ظفر علی شاہ نے کہا کہ آرڈیننس سے نئے احتساب کمشن کے قیام کے لئے قانون سازی کو دھچکا لگے گا۔ رضا ربانی کا موقف تھا کہ احتساب آرڈیننس ترمیمی 2010ءپر جو کچھ اپوزیشن نے کیا وہ اس سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ ملک میں جاری طویل لوڈ شیڈنگ اور وزیر پانی و بجلی کی جانب سے ارکان کو رینٹل پاور پراجیکٹ کے معاملے پر تسلی بخش جواب نہ دینے پر (ق) لیگ کی درخواست پر اپوزیشن جماعتوں نے علامتی واک آوٹ کیا۔ جان محمد جمالی نے ایک موقع پر ریمارکس میں کہا کہ سیلاب میں جیسے دریاوں کے بند توڑے گئے اس سے ملک میں غدر مچا اور اس کا نقصان سویلین حکومت کو الیکشن میں اٹھانا پڑے گا۔
اسلام آباد (اے این این) قومی اسمبلی کے اجلاس میں نیٹو ہیلی کاپٹرز کی خلاف ورزیوں اور نیب آرڈیننس میں تبدیلی پر مسلم لیگ(ن) نے شدید احتجاج کیا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ تاخیر سے ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی کی صدارت میں تلاوت سے شروع ہوا۔ مسلم لیگ(ن) کے مہتاب عباسی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق صدر زرداری نے نیب آرڈیننس میں تبدیلی کر کے چیئرمین نیب کے اختیارات وزیر قانون کو دئیے ہیں، جو قابل افسوس ہے۔ راتوں رات خاموشی سے ترمیم کی گئی حکومت وضاحت کرے کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں ایسا کیوں کیا گیا۔