سپریم کورٹ نے وزارت قانون کی جانب سے صدر کے صوابدیدی اختیار سے متعلق درخواست اعتراض لگا کرواپس کردی

سپریم کورٹ نے وزارت قانون کی جانب سے صدر کے صوابدیدی اختیار سے متعلق درخواست اعتراض لگا کرواپس کردی

سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا کہنا ہے کہ اس درخواست کی این آراو نظرثانی اپیل کے ساتھ سماعت نہیں کی جاسکتی ۔ لہٰذا اسے الگ سے دائرکیا جائے اور یہ بھی واضح کیا جائے کہ صدر نے کن لوگوں کی سزائیں معاف کی ہیں۔ اس سلسلے میں متاثرہ فریق خود عدالت سے رجوع کرے ۔ اس سے پہلے وزارت قانون کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائرکی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ صدرکو آئین کے آرٹیکل پینتالس کے تحت سزائیں معاف کرنے کا صوابدیدی اخیتارحاصل ہے، صدرجو سزائیں معاف کرتے ہیں وہ بحال نہیں ہوسکتیں اورنہ ہی انہیں کسی عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ اس درخواست کو این آراوکیس کے سلسلے میں دائرکی گئی درخواست کے ساتھ منسلک کردیا جائے۔ سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ دوماہ پہلے اس حوالے سے اپنا فیصلہ بھی دے چکا ہے کہ آرٹیکل پینتالس کے تحت سزائیں معاف کرنا صدرکا صوابدیدی اختیار ہے لیکن دہشت گردی اورغداری جیسے سنگین جرائم میں سزائیں معاف نہیں کی جاسکتیں۔