آئی ایم ایف کے دباﺅ پر بجلی مزید 2 فیصد مہنگی‘ پیپکو تحلیل

اسلام آباد (نامہ نگار + مانیٹرنگ نیوز + آن لائن) وفاقی حکومت نے بجلی کے نرخوں میں 2 فیصد اضافہ کر دیا ہے جس کا اطلاق آج سے ہو گا۔ پیپکو کو بھی تحلیل کر دیا گیا ہے۔ وزارت پانی و بجلی نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ حکومت نے یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے دباو پر کیا ہے کیونکہ اگلی قسط کے اجرا کے لئے آئی ایم ایف نے بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔ بجلی کے نرخوں میں اضافے سے غریب عوام پر مزید بوجھ بڑھے گا اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا پیپکو بہت زیادہ خسارے میں جا رہا تھا جس کے باعث اسے تحلیل کر دیا گیا۔ پیپکو کی جگہ 8 خودمختار کمپنیاں ہوں گی اور یہ اپنے معاملات کی ذمہ دار ہوں گی۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لئے سٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا سرکاری اداروں کی تنظیم نو کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ہم سالانہ ڈھائی سو ارب کا خسارہ برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا بجلی چوری سے بچاو کے لئے صوبوں کے پاس جا رہے ہیں اور معیشت سنبھالنے کے لئے مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا بجلی کی قیمت میں اضافہ بڑھتے ہوئے خسارے کے پیش نظر کیا گیا۔ حکومت بجلی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا چاہتی ہے۔ آن لائن کے مطابق حکومت نے عوام پر ایک اور بم گراتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں دو فیصد اضافہ کر دیا ہے‘ اس کا اطلاق پیپکو اور کے ای ایس سی کے تمام صارفین پر ہو گا۔ یہ اضافہ 2009-10ءکی چوتھی سہ ماہی کے جائزے کے بعد کیا گیا ہے ،ترجمان کے مطابق نیپرا نے دو فیصد سے زیادہ اضافے کی تجویز دی تھی تاہم حکومت نے عوامی مفاد میں صرف دو فیصد اضافے کی منظوری دی۔ وفاقی حکومت نے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کو تحلیل کر کے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو مالیاتی اور انتظامی اختیارات دینے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا پہلے مرحلے میں چار ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو میپکو‘ لیسکو‘ فیسکو اور آئیسکو کو مالیاتی اور انتظامی اختیارات دیئے جائیں گے جبکہ وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے بجلی کی قیمتوں میں دو فیصد اضافہ کوئی بڑا اضافہ نہیں‘ واپڈا کو ہونے والے سالانہ 250 ارب روپے کے خسارے میں سے 30 ارب روپے بجٹ میں سے بقایا ڈسٹری بیوشن کمپنیاں خود پورا کریں گی نیپرا کو بغیر اجازت بجلی کی قیمتیں بڑھانے کیلئے جلد خودمختاری دے دیں گے۔ انہوں نے کہا گذشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے ملک کی انٹر انٹرپرائزز بلیڈ کر رہی تھی جو قومی خزانے پر بوجھ بنی ہوئی ہے ویراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جو اداروں کی ازسرنو تشکیل کر رہی ہے جس میں وزارت خزانہ‘ پلاننگ کمشن اور ماہرین کو شامل کیا گیا تھا پہلا محکمہ پیپکو تھا جو ہمارے روز مرہ کی زندگی میں اثرات مرتب کر رہا ہے جو خسارے میں جا رہا ہے 2003ءسے ٹیرف کو منجمد کیا گیا جس سے کمپنی کو 400 ارب روپے کا نقصان برداشت ہو رہا تھا ہمیں ماہانہ بیس ارب روپے جنریشن لاگت میں برداشت کرنا پڑے ہم انقلابی اقدام اٹھانے پر مجبور تھے وزیراعظم نے کمیٹی کی سفارش پر اس ادارے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے واپڈا کو 1970ءسے سفید ہاتھی کا درجہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا پیپکو کو تحلیل کرکے تمام کمپنیوں کو آزادانہ اختیار دے دیا گیا ہے یہ تمام ادارے بجلی کی سپلائی‘ ریونیو اور دیگر معاملات کی ذمہ دار ہوگی اس سلسلے میں سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اس میں وزارت خزانہ‘ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمشن اور وزیر پانی و بجلی شامل ہوں گے جو اس عمل کی دیکھ بھال کرے گی ہم کتنے عرصے تک قرضے لیتے رہے ہیں اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔ لاہور‘ فیصل آباد ‘ ملتان اور اسلام آباد کی الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کو پہلے مرحلے میں مالی خود مختاری دی جائے گی ہم اس کو وفاقی کابینہ میں لے کر جائیں گے اور انہیں اس حوالے سے اعتماد میں لیں گے۔