کسی مافیا کا راج نہیں ہونے دیں گے‘ سی این جی کی موجودہ قیمت 19 نومبر تک برقرار رکھی جائے : چیف جسٹس

 کسی مافیا کا راج نہیں ہونے دیں گے‘ سی این جی کی موجودہ قیمت 19 نومبر تک برقرار رکھی جائے : چیف جسٹس

اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت +نوائے وقت رپورٹ + آئی این پی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سی این جی کی موجودہ قیمت سی این جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق مقدمے کی آئندہ سماعت 19نومبر تک برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعداد وشمار پیش کیے جائیں کہ کس شعبہ کو کتنی گیس فراہم کی جاتی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے قیمت کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ایمان ہے کہ وہ ملک میں کسی مافیا کا راج نہیں ہونے دیں گے ، وزارت پٹرولیم بنیادی آئینی حقوق کا خیال رکھے، لاکھوں صارفین کے حقوق اور مفاد کا معاملہ ہے۔ عدالت نے سی این جی ایسوسی ایشن اور سٹیشن مالکان کی مقدمہ کے فریق بننے کی درخواستیں منظور کرلیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے پیٹرولیم مصنوعات کے تعین کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کی۔ اوگرا نے آپریٹنگ کاسٹ ختم کرتے ہوئے پیداواری لاگت کی مد میں 5 روپے 75 پیسے وصول کرنے کی تجویز دی۔ اسی طرح سی این جی سٹیشن مالکان کا منافع بھی 11 روپے 20 پیسے سے کم کرکے2 روپے 95 پیسے فی کلو کرنے کی تجویز دی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کے اِس بیان کا نوٹس لیا جس میں انہوں نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا تھا کہ مافیا پٹرول قیمتوں کا مقدمہ نمٹانے نہیں دے رہا۔ چیف جسٹس نے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری پٹرولیم سے وضاحت طلب کر لی اور کہا عدالت میں مافیا کا کوئی تصور نہیں۔ انہوں نے کہا ڈاکٹرعاصم کی طرف سے مافیا کا تذکرہ بڑا چیلنج اور چونکا دینے والی بات ہے۔ ڈاکٹر عاصم نے بیان دیا تھا کہ پیٹرولیم مافیا نے عدالتی حکم پر پیٹرولیم پالیسی زیر التوا رکھی ہے، سیکرٹری پیٹرولیم نے عدالت کو بتایا کہ پیٹرولیم لیوی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ میں کیس زیر سماعت ہے اور عدالت نے ایک سال قبل حکم امتناعی جاری کیا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ پیٹرولیم پالیسی کی آڑ میں عدالت پر تنقید کی گئی، جلدی سماعت کے لیے متعلقہ عدالت سے رجوع کیا جائے۔ قیمتوں کا تعین کرنا عدالت نہیں اوگرا کا کام ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ وزارت پٹرولیم بنیادی آئینی حقوق کا خیال رکھے۔ لاکھوں صارفین کے حقوق اور مفاد کا معاملہ ہے اب اوگرا نے عدالت کو مطمئن کرنا ہے کہ صارفین کا استحصال نہ ہو۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دئیے کہ سی این جی ایسوسی ایشن ایک کارٹل ہے اور ایسا لگتا ہے اسے حکومت نے بنوایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی این جی کی اصل قیمت بہت ہی کم ہے، اوگرا کی ذمہ داری ہے کہ وہ صارفین کے حقوق کاخیال رکھے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا اوگرا کو اپنے قانون کے سیکشن 9،8،7 اور ٹیرف قواعد پر عمل کرنا ہوگا۔ اوگرا نے صارفین کے حقوق کے لیے واچ ڈاگ کا کردارادا کرنا ہے۔ اوگرا کا کردار یہ نہیں کہ حکومت کے تابع ہوکر رہ جائے۔ ایسا لگتا ہے کہ اوگرا واچ ڈاگ نہیں بلکہ لیپ ڈاگ ہے۔ عدالت نے سی این جی ایسوسی ایشن اور سٹیشن مالکان کی مقدمہ کے فریق بننے کی درخواستیں بھی منظور کرلیں۔ ان کی طرف سے حفیظ پیرزادہ پیش ہوئے، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں جامع جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا جائے، عدالت نے کہا کہ وہ چاہتی ہے کہ حکومت کام کرے اور اپنی اتھارٹی منوائے، حکومت وہ ٹیکس نہیں لگا سکتی جس کی منظوری اسے حاصل نہیں، ایسا کرنا تھوڑا سا استحصال ہے۔ لوگ روزانہ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، اگر طلب سے زیادہ گیس ہے تو لوڈ شیڈنگ کیوں ہوتی ہے ، آج بھی کراچی میں سی این جی بند کی گئی ہے، آئندہ سماعت پر عدالت کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج کل ٹریکر کے ذریعے گاڑیاں پکڑ لی جاتی ہیں تو گیس کی چوری کیوں نہیں رک سکتی۔ عدالت نے چیئرمین اوگرا اور گیس کمپنیوں کو گیس چوری روکنے کے حوالے سے اقدامات سے متعلق جواب جمع کرنے کی ہدایت کی۔