کراچی میں آپریشن کلین اپ کی ضرورت‘ محکمہ داخلہ متوازی عدالتی نظام چلا رہا ہے : سپریم کورٹ

کراچی میں آپریشن کلین اپ کی ضرورت‘ محکمہ داخلہ متوازی عدالتی نظام چلا رہا ہے : سپریم کورٹ

کراچی (وقائع نگار +نوائے وقت نیوز+ نیٹ نیوز+ اے پی اے) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے لارجر بنچ نے حکم دیا ہے کہ بغیر نمبر پلیٹ، اپلائیڈ فار رجسٹریشن فینسی نمبر پلیٹ اور غیر ملکی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کو فوری طور پر ضبط کیا جائے، چاہے اس کیلئے آپ کو وزیراعلیٰ ہاﺅس اور گورنر ہاﺅس ہی کیوں نہ جانا پڑے اور کوئی گاڑی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹ کے بغیر پورٹ سے نہیں نکلنی چاہئے۔ منی بسوں، کوچز اور بسوں کی چھتوں پر لگے ہوئے جنگلے فوری طور پر ہٹائے جائیں۔ جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل لارجر بنچ نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حکام کو حکم دیا کہ وہ کراچی پور ٹ میں دفتر کھولےں تاکہ بغیر رجسٹرڈ کوئی گاڑی شہر میں نہ آ سکے، بغیر رجسٹرڈ گاڑیوں سے سنگین وارداتیں ہورہی ہیں اور افسران سکون سے بیٹھے ہیں۔ عدالت نے ڈی آئی جی ٹریفک خرم گلزار سے استفسار کیا کہ ٹریفک پولیس کو کیو ں نہیں پتہ کہ شہر میں کتنی گاڑیاں چل رہی ہیں۔ سیکرٹری داخلہ وسیم احمد نے سپریم کورٹ کے روبرو ٹریفک کے مسائل پر بنائی گئی مسعودالرحمن کمشن کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ کراچی میں کئی فلائی اوور، انڈر پاس بنا لئے جائیں مگر ٹریفک کے حالات خراب ہی ہوتے جائیں گے۔ عدالت نے سندھ پولیس کی رپورٹ ناکافی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ جسٹس خلجی نے کہا کہ پولیس جسے چاہتی ہے اسے ٹارگٹ کلر بنا دیتی ہے۔ عدالت نے کراچی میں ہلاکتوں کی رپورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے کراچی میں ہلاکتوں کی رپورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے کراچی امن و امان کیس میں پیرول پر سنگین جرائم میں ملوث افراد کی رہائی پر برہمی ظاہر کی۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ رینجرز کو واپس سرحدوں پر بھیج کر اس کے بجٹ سے پولیس کی تنخواہیں بڑھائی جائیں، یہ بجٹ پولیس پر خرچ کیا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ محکمہ داخلہ سندھ متوازی عدالتی نظام چلا رہا ہے۔ شہر میں دہشت گردی کا دور دورہ ہے۔ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف ایکشن نہیں لیا جا رہا۔ عدالت نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کیلئے آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ رینجرز جن ملزوں کو پکڑتی ہے دس روز اپنے پاس رکھتی ہے اس دوران سارے شواہد مٹ جاتے ہیں۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے سوال کیا کہ طالبان کے خلاف آپریشن کیوں نہیں کیا جا رہا۔ یہ بھی بتایا جائے کتنے لوگ آج تک مختلف آپریشن میں پکڑے گئے۔ اے آئی جی بشیر میمن نے استفسار پر بتایا کہ ہم ٹارگٹڈ آپریشن کر رہے ہیں جس پر جسٹس سرمد نے کہا آپ کو آپریشن کلین اپ کرنا چاہئے اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔جسٹس خلجی کا کہنا تھا کراچی میں بدامنی کے باعث نوے فیصد لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گئے ہیں۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے استفسار کیا کہ رینجرز کب سے شہر میں موجود ہے، اس پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ وسیم احمدنے بتایا کہ 1995ءسے رینجرز شہر میں موجود ہے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ رینجرز کو آپ نے خواہ مخواہ شہر میں پھنسا رکھا ہے، انہیں فارغ کریں تاکہ وہ سرحدوں کی حفاظت کرسکیں، جو بجٹ آپ رینجرز پر خرچ کررہے ہیں اس سے پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں دگنی کریں، مورال بلند ہوگا تو پولیس خود حالات سنبھال لے گی۔ آئی جی جیل خانہ جات نے بتایا کہ ایک سو تیرانوے سزا یافتہ مجرموں کو پیرول پر رہا کیا گیا۔ وسیم احمد کا کہنا تھا کہ دوہزار آٹھ میں آئی جی پولیس کو پیرول پر رہا افراد کی دوبارہ گرفتاری کے لیئے خط لکھا لیکن آئی جی نے کچھ نہ کیا۔ بنچ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا اس کا مطلب ہے ہوم ڈپارٹمنٹ متوازی عدالتی نظام چلا رہا ہے۔