کراچی : بھتہ خوروں سمیت جرائم پیشہ افراد کیخلاف کارروائی کی جائے : صدر زرداری

کراچی : بھتہ خوروں سمیت جرائم پیشہ افراد کیخلاف کارروائی کی جائے : صدر زرداری

کراچی (نوائے وقت رپورٹ+ وقائع نگار+ ایجنسیاں) صدر زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات روکنے کیلئے انٹیلی جنس شیئرنگ کا نظام مو¿ثر بنایا جائے۔ صدر زرداری کی صدارت میں امن و امان کی صورتحال پر اجلاس ہوا۔ صدر نے کراچی میں اسلحہ کے پھیلاﺅ کا نوٹس لے لیا۔ صدر کو بریفنگ دی گئی کہ کراچی میں 11 لاکھ سے زائد اسلحہ لائسنسز کا ریکارڈ ہی موجود نہیں، خودساختہ اسلحہ لائسنس روکنے کیلئے سمارٹ کارڈ اسلحہ لائسنس جاری کئے جا رہے ہیں۔ اجلاس سے خطاب میں صدر زرداری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ ہماری ہے اور کوئی آپریشن نہیں ہوگا، امن وامان کی صورتحال پر جلد قابو پالیں گے، سرکاری افسروں کی تعیناتی غیر جانبدرانہ ہونی چاہئے، پالیسوں کے تسلسل کیلئے سرکاری افسروں کا جلد تبادلہ نہیں ہونا چاہئے، پاکستان میں سول سروس کا تجربہ کامیاب رہا،جمہوریت کے استحکام اور پاکستانی بچوں کے مستقبل کیلئے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کیے، تاریخ ہمارے دور کو سنہری حروف میں یاد رکھے گی، دہشتگردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جمہوری انداز میں حکومت منتقل ہوگی، ہمیں اس ذہیت کیخلاف لڑنا جس نے ملالہ پر حملہ کرایا، ترقی کا صرف ایک راستہ ہے کہ پوری قوم دہشتگردی کیخلاف متحدہ ہو جائے، دہشتگرد ہر پاکستانی سمیت پوری دنیا کے دشمن ہیں کراچی میں امن وامان کی خراب صورتحال پر سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ کے ٹھکانوں پر کارروائی کی ہدایت کر دی۔ ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ نے اجلاس کو بریفنگ دی۔ امن وامان کی خراب صورتحال پر صدر زرداری نے سخت برہمی کا اظہارکیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پولیس ٹارگٹ کلنگ روکنے میں کیوں ناکام ہے۔ انہوں نے آئی جی سندھ سے کہا کہ آپ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں، نتائج نہ دیئے گئے تو تبدیل کر دیا جائے گا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو جرائم پیشہ عناصرکیخلاف متحد ہونا ہوگا۔ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کوئی دباو¿ قبول نہ کیا جائے۔ صدرزرداری نے اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کےلئے کیمونٹی پولسنگ کو فروغ دینے کی ہدایت کی۔ صدر زرداری نے کہا کراچی میں قیام امن کےلئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مربوط انداز میں کام کریں، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، امن وامان کے معاملات پر مشاورت اور مختلف مسائل کے حل کےلئے رابطہ کار کمیٹی قائم کی جائے۔ کراچی میں بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کےلئے کوئی جگہ نہیں ہے اور کسی بھی شخص کو ملک کے معاشی حب کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔