سپریم کورٹ کے حکم پر بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف یار محمد رند کمرہ عدالت سے گرفتار

سپریم کورٹ کے حکم پر بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف یار محمد رند کمرہ عدالت سے گرفتار

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ایجنسیاں) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی ٹرائل کورٹ کی طرف سے قتل کے مقدمہ میں دی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران ان کی گرفتاری کو قانون کے مطابق لازمی قرار دیتے ہوئے گرفتار کرنے کا حکم دیا‘ عدالت کے حکم پر سردار یار محمد رند کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔ سردار یار محمد رند نے بلوچستان ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ سے انہیں غیر حاضری میں عمر قید کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کررکھی تھی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ان کی اپیل کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے قانونی تقاضا کے تحت سردار یار محمد رند کی گرفتاری کا حکم دیا اور کہا کہ انہیں تھانہ سیکرٹریٹ میں رکھا جائے، پیر کو دوبارہ تین رکنی بنچ کے سامنے پیش کیا جائے۔ عدالت نے سردار یار محمد رند کے وکیل اکرم شیخ ایڈووکیٹ کی انہیں دوران حراست سندھ ہاﺅس میں رکھنے کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانون سب کیلئے ایک ہے کسی سے امتیازی سلوک نہیں کرسکتے۔ سردار یار محمد رند نے مو¿قف اختیار کیا کہ بلوچستان ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ نے انہیں مقدمہ قتل میں سزا عدم موجودگی میں سنائی وہ بلوچستان کی عدالتوں میں اس لئے پیش نہیں ہوسکے تھے کہ صوبے کا وزیر اعلیٰ ان کے خون کا پیاسا ہے۔ سردار یار محمد رند نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ہی ان کے بیٹے کے قاتل ہیں۔ سردار یار محمد رند کے وکیل اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ رئیسانی اور رند قبائل کے درمیان دشمنی کی وجہ سے اب تک دو سو سے زائد افراد قتل ہوچکے ہیں اسی وجہ سے سردار یار محمد رند بلوچستان نہیں جا رہے تاہم عدالت نے ان کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانونی تقاضا پورا کرتے ہوئے ان کی گرفتاری لازمی ہے۔ عدالت نے انہیں تھانہ سیکرٹریٹ میں رکھنے اور پیر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔ دریں اثناءسردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کی بدانتظامی بے نقاب کرتا رہوں گا میں نے پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے سرنڈر کیا ہے۔