بلوچستان میں صرف 36 لوگ لاپتہ ہیں، پاکستان کو توڑنےکی سازش کرنیوالے لاپتہ افراد کے غلط اعدادوشمار بتارہے ہیں، رحمان ملک

بلوچستان میں صرف 36 لوگ لاپتہ ہیں، پاکستان کو توڑنےکی سازش کرنیوالے لاپتہ افراد کے غلط اعدادوشمار بتارہے ہیں، رحمان ملک

 

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ وہ اپنا فرض ادا کرنے عدالت آئے تھے، بولنے کا موقع دینے پر چیف جسٹس کے شکر گزار ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ بلوچستان میں لوگ گزشتہ دور حکومت میں لاپتہ ہوئے جبکہ ہماری صوبائی حکومت نے آٹھ سو اکتیس لاپتہ افراد کی فہرست دی جن میں سے صرف چھتیس افراد کی تلاش کا کام باقی ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ نےکہا کہ بلوچستان میں پنجابیوں اور سندھیوں سمیت ہر طبقے کے لوگوں کو مارا گیا اور ایف سی کی وردیاں پہن کر لوٹ مار کی گئی جبکہ بی ایل اے فخر سے کہتی ہے کہ اس نے اتنے لوگ مارے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ جسٹس جواد ایس خواجہ کی جانب سے بلوچستان کے حالات کا جائزہ لینے کےلیے سول سوسائٹی، وکلا اور میڈیا پرمشتمل کمیشن بنانے کی تجویز بھی کابینہ میں پیش کریں گے۔ ایف سی پر آئی جی بلوچستان کی جانب سے لگائے گے الزامات درست نہیں، حکومت ان الزامات کا بھی جائزہ لے گی۔