بلوچستان میں آئینی بحران‘ سپیکر بھی اب اسمبلی کا اجلاس نہیں بلا سکتا : ماہرین

بلوچستان میں آئینی بحران‘ سپیکر بھی اب اسمبلی کا اجلاس نہیں بلا سکتا : ماہرین

لاہور (وقائع نگار خصوصی) آئینی ماہرین نے سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد اس بات پر مکمل اتفاق کیا ہے کہ بلوچستان کی حکومت حکمرانی کا حق مکمل طور پر کھو چکی ہے تاہم ان ماہرین نے آئندہ اقدام اور اسمبلی کا اجلاس بلانے کے حوالے سے مختلف آراءکا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اے کے ڈوگر نے کہا جب سپریم کورٹ نے قراردیا کہ بلوچستان میں آئینی تعطل پیدا ہوگیا ہے تو اس کا واضح مطلب تھا کہ صوبے کی حکومت حق حکمرانی کھو چکی ہے۔ حکومت کا مطلب وزیراعلیٰ اور کابینہ ہے۔ اسے فوری برطرف کرکے نئی حکومت بنانی چاہئے تھی مگر بلوچستان میں عجیب صورتحال ہے کہ ایک رکن کے سوا تمام ارکان اسمبلی وزراءہیں۔ اس صورتحال میں اسمبلی کو ختم کیا جائے یا نئے متحرک وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کو کسی بھی رکن کی ریکوزیشن پر اجلاس بلانا چاہئے تاکہ یہ معاملہ اسمبلی میں زیر بحث آئے۔ سپریم کورٹ بار کے سابق سیکرٹری محمد امین جاوید نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بلوچستان حکومت کے قائم رہنے کا کوئی آئینی و قانونی جواز نہیں۔ اس میں زیادہ ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ صوبے وفاق کی اکائیاں ہیں خود مختار ریاستیں نہیں اگر وفاقی حکومت کا کسی صوبائی حکومت پر کنٹرول نہیں تو وفاق برابر کی ذمہ دار ہے۔ جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے چیئرمین محمد اظہر صدیق نے کہا کہ سپریم کورٹ کے عبوری آرڈر کے تحت صوبے میں آئینی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ وفاقی حکومت دستور کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کے علاوہ گورنر راج کا نفاذ کر سکتی تھی مگر اس نے بروقت یہ اقدام نہیں کئے۔ اب ایک ہی آئینی حل ہے کہ اسمبلی ختم کرکے نئے انتخابات کرائے جائیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے بلوچستان کے معاملے پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ آئینی طور پر سپیکر اب اسمبلی کا اجلاس نہیں بلا سکتا۔