بلوچستان بدامنی کیس میں سپریم کورٹ نے اپنا عبوری حکم برقرار رکھا، عدالت نے وفاقی حکومت کوصوبےمیں آئینی خلفشار روکنے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اقدامات کرنے کا حکم دیا۔

خبریں ماخذ  |  خصوصی رپورٹر
بلوچستان بدامنی کیس میں سپریم کورٹ نے اپنا عبوری حکم برقرار رکھا، عدالت نے وفاقی حکومت کوصوبےمیں آئینی خلفشار روکنے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اقدامات کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پروزیر داخلہ رحمان ملک اور اٹارنی جنرل عرفان قادر روسٹرم پر آگئے۔ جس پر چیف جسٹس نے رحمان ملک کو ہدایت کی کہ آپ تشریف رکھیں، آپ کیوں آ گئے، رحمان ملک نے کہا کہ آج مجھے نہ سنا گیا تو تاریخ آپ کو معاف کریگی نہ مجھے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارا ضمیر مطمئن ہے ، تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔ چیف جسٹس نے رحمان ملک کو ہدایت کی کہ آپ نے جو کچھ کہناہے لکھ کر دیں، جس پر رحمان ملک نے کہا کہ ایسی باتیں ہیں جو لکھ کر نہیں کی جا سکتیں۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل کی جانب سے رحمان ملک اور ایڈووکیٹ جنرل کو بولنے کی اجازت نہ دینے پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا۔ بعد ازاں عدالت نے رحمان ملک کو بولنے کی اجازت دے دی۔ چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ کیا لوگوں کے لیے بلوچستان میں آزادانہ گھومنا ممکن ہے،کیا کوئی کسی جگہ محفوظ ہے،وزیراعلیٰ کا اپنا بھتیجا قتل ہوا لیکن قاتل نہ پکڑے جاسکے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر اس کی حرارت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گلگت سے لوگ آکر قتل و غارت کررہے ہیں، صوبے میں طالبان ،بی ایل اور جنداللہ کا گٹھ جوڑ ہے ۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ انہیں گرفتار کیوں نہیں کرتے۔ رحمان ملک نے جواب دیا کہ وہ اس حوالے سے پاور پوائنٹ پر بریفنگ دیں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صدر صاحب کا بیان بہت اچھا ہے کہ بریفنگ نہ دین ایکشن لیں، بلوچستان میں امن وامان کا فقدان ہے۔ اس پر وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ آپ قیادت کریں ہم آپ کے پیچھے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم کوئی سیاستدان نہیں۔ رحمان ملک نے عدالت سےاستدعا کی کہ عبوری حکم واپس لیا جائے یا تبدیل کرنے کا حکم دیا جائے، اس سے مسائل پیش آرہے ہیں اور آئینی بریک ڈاؤن ہورہا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ حکم نامہ تبدیل نہیں کیا جائے گا، صوبے میں کوئی آئینی بریک ڈاؤن نہیں، رحمان ملک نے کہا کہ بلوچستان میں شرپسندی کے ذمہ دار تین سو ستاسی افراد ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئی جی بلوچستان کہتے ہیں اغواکے واقعات میں ایف سی ملوث ہے، جس پررحمان ملک نے کہا کہ آئی جی بلوچستان غلط کہتے ہیں ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بلوچستان میں جو بہتری آئی ، وہ پولیس کی وجہ سے آئی، کسٹم ڈپارٹمنٹ کابلی گاڑیاں نہیں پکڑتا تھا، صوبائی کابینہ کے وزراء پراغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے ،بلوچستان میں کاروبار بن گیا ہے کہ پکڑو اور پیسے لو۔ عدالت میں وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی بھی موجود تھے۔ عدالت نے مقدمےکی سماعت بیس نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے اپنا عبوری حکم برقرار رکھا ہے۔ چیف سیکریٹری اور سیکریٹری داخلہ کو کام جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو صوبے میں آئینی خلفشار کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اقدامات کا بھی حکم دیا۔