بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بلایا جا سکتا ہے نہ صدارت کروں گا : سپیکر اسلم بھوتانی

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بلایا جا سکتا ہے نہ صدارت کروں گا : سپیکر اسلم بھوتانی

کوئٹہ (نوائے وقت رپورٹ+ دی نیشن رپورٹ+اے پی اے) بلوچستان اسمبلی کے سپیکر اسلم بھوتانی نے کہا ہے کہ جب تک صوبائی حکومت کی قانونی حیثیت کا تعین نہیں ہو جاتا وہ وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر اجلاس بلا سکتے ہیں نہ ہی ایسے کسی اجلاس کی صدارت کرینگے۔ ادھر بلوچستان کی آئینی حیثیت پر گورنر سیکرٹریٹ سے بھی وضاحت کی درخواست کی ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے سپیکر محمد اسلم بھوتانی نے بلوچستان اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس کی صدارت سے انکار کر دیا ہے۔ سپیکر محمد اسلم بھوتانی کا اس حوالے سے مو¿قف ہے کہ عدالتی حکم کی موجودگی میں وزیراعلیٰ کی ہدایت پر اجلاس بلانا توہین عدالت ہے۔ سپیکر نے اسی بنیاد پر بلوچستان اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس کی صدارت سے انکار کردیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق بلوچستان میں آئینی بحران پیدا ہوگیا ہے بلوچستان حکومت نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس آج گوادر میں طلب کیا ہے جبکہ سپیکر صوبائی اسمبلی اسلم بھوتانی نے اجلاس کی صدارت سے انکار کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلم بھوتانی نے وزیراعلیٰ کا مشورہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔ سپیکر بلوچستان اسمبلی نے اجلاس کی صدارت سے معذرت کر لی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھوتانی نے رئیسانی کی ایڈوائس پر اجلاس بلانے سے انکار کردیا۔ وزیراعلیٰ نے بلوچستان اسمبلی سیکرٹریٹ کو اجلاس بلانے کا خط بھیجا تھا جس میں کہا گیا کہ اجلاس 9 یا 10 دسمبر کو گوادر میں بلایا جائے جس میں وزیراعظم بھی شرکت کریں۔ بھوتانی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد رئیسانی کے حکم پر اسمبلی کا اجلاس بلانا توہین عدالت کے مترادف ہوگا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بھوتانی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں یہی وجہ تھی کہ سپریم کورٹ نے مسلسل سماعت کے بعد فیصلہ صادر کیا۔ میرے لئے بحیثیت سپیکر عجیب مشکل پیدا ہوگئی جب وزیراعلیٰ کی طرف سے خط آیا کہ گوادر میں میں نے اسمبلی اجلاس کے انعقاد کا انتظام کیا ہے۔ میرے لئے ایک طرف وزیراعلیٰ کی ہدایت، دوسری طرف سپریم کورٹ کا عبوری حکم تھا۔ صوبائی حکومت کے آئینی اختیار پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ میں نے گورنر کو خط لکھا ہے کہ گورنر ہاﺅس وضاحت کرے کہ وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر ہم کیسے عمل کریں مجھے ڈر تھا کہ وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر عبوری حکم کے ہوتے ہوئے عمل کروں گا تو توہین عدالت میں نہ آجاﺅں۔ اس وقت بلوچستان کے مسئلے کا واحد حل غیر جانبدار، شفاف انتخابات ہیں۔ اس کے نتیجے میں عوام جو بھی نمائندے منتخب کریں انہیں حکومت سونپی جائے خواہ ان کے جو بھی سیاسی خیالات ہوں انہیں اقتدار سونپنے میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ چیف الیکشن کمشنر کی ایمانداری، ان کی قابلیت پر کوئی شک نہیں لیکن شائد نگران حکومت ایسی ہو جو کہیں مداخلت نہ کرسکے، لوگوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا آزادانہ موقع ملنا چاہئے، یہ بلوچستان کے مسئلے کا ایک حل ہو سکتا ہے۔ امید ہے جب تمام لوگ اور پارٹیاں جنہوں نے پہلے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا وہ بھی حصہ لیں گے تو یقیناً بلوچستان کے حالات کافی بہتر ہو سکتے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق سپیکر بلوچستان اسمبلی نے وزیراعلیٰ کو جواب دیا کہ مجھے سپیکر کے منصب پر ارکان اسمبلی نے بٹھایا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کا بھی ایک ووٹ شامل ہے۔اے این این کے مطابق اسلم بھوتانی نے وزیراعلیٰ کی آئینی حیثیت واضح ہونے تک اسمبلی اجلاس بلانے سے معذرت کرلی۔ ذرائع کے مطابق گورنر بلوچستان کی جانب سے 9 اور 10 نومبر کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس گوادر میں طلب کرنے کی ایڈوائس بھیجی تھی تاہم بلوچستان بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کے عبوری حکم کی روشنی میں سپیکر بلوچستان اسمبلی نواب اسلم بھوتانی اجلاس طلب کرنے اور اس کی صدارت کرنے سے معذرت کرتے ہوئے اسمبلی سیکرٹریٹ کو ہدایت کی کہ گورنر ہاﺅس سیکرٹریٹ سے عدالتی حکم کی روشنی میں وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی آئینی حیثیت کے حوالے سے وضاحت طلب کی جائے۔ اسلم بھوتانی نے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد وزیراعلیٰ کی آئینی حیثیت واضح نہیں جب تک صوبائی حکومت کی قانونی حیثیت کا تعین نہیں ہوتا وہ اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتے اور ایسی صورتحال میں اجلاس طلب کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے تاہم گورنر ہاﺅس سیکرٹریٹ کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ محمد اسلم بھوتانی نے کہا کہ اقتدار میں سیاسی انتقام نہیں لینا چاہئے سردار یار محمد رند بلوچستان صوبائی اسمبلی کے معزز رکن ہیں، اقتدار میں سیاسی انتقام نہیں لینا چاہئے۔ گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کو چاہئے کہ وہ سردار یار محمد رند کی قبائلی حیثیت کے حوالے سے تحفظ کی فراہمی یقینی بنانے میں اپنا مو¿ثر و عملی کردار ادا کریں انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے پریس کانفرنس کے رد عمل میں میں کہا کہ مجھے سپیکر اللہ کی ذات کے بعد بلوچستان اسمبلی کے 65 ارکان نے بنایا ان میں ایک ووٹ نواب محمد اسلم رئیسانی کا بھی شامل ہے تاہم جہاں تک مجھ پر ترس آنے کی بات کی ہے تو یہ میں بلوچستان کے عوام پر چھوڑتا ہوں کہ وہ کس پر ترس کھاتے ہیں۔
اسلام آباد (وقائع نگارخصوصی) وزےر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئےسانی نے کہا ہے کہ اسلم بھوتانی پر بہت ترس آتا ہے، انہےں سب سے پہلے اللہ اور پھر مےں نے انہےں سپےکر بناےا، الزامات لگانا آسان ہے لےکن ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے مےں نے اےک ارب گےارہ کروڑ کا طےارہ اپنے گھر کے لئے نہےں حکومت کے لئے خرےدا ہے، ےہ طےارہ صوبے کی ملکےت ہے آ نے والا وزےر اعلیٰ بھی ا سی طےارے کو استعمال کرے گا۔ انہوں نے یہ بات بلوچستان ہاو¿س مےں اپنی پارٹی کے رہنماﺅں کے ہمراہ ہنگامی پرےس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر جمعےت علمائے اسلام (ف) اور اتحادی جماعتوں کے ارکان بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان مےں اےف سی مےرے ماتحت نہےں وہ وزارت داخلہ کے ماتحت ہے لہذا وزےر داخلہ سے پوچھا جائے کہ کون اےف سی کو کنٹرول کررہا ہے ؟ صوبے کے مسائل مےں دلچسپی نہ لےنے کا الزام قطعی غلط ہے اگر کسی کے پاس کرپشن کے شواہد ہےں تو وہ ثابت کرے ہم تو بےمار کو دوا دےں گے بہتری نہ ہوئی تو انجکشن لگائےں گے ، صوبائی وزےر اور پارٹی کے صوبائی صدر صادق عمرانی اس قابل نہےں کہ ان کے الزامات کا جواب دوں۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے ہم پر جو الزامات لگ رہے ہےں ہم ان کا آئےنی وقانونی دفاع آج سپرےم کورٹ میں کریںگے، لاپتہ افراد کے حوالے سے سپرےم کورٹ کا عبوری فےصلہ آےا ہے۔ تفصےلی فےصلے کا انتظار ہے ، اےک اشتہاری مجرم ا سلام آباد مےں آزادانہ گھوم پھر رہا مگر اسے گرفتار نہےں کےا۔ بعض ٹی وی اےنکر بھی اشتہاری مجرم کواپنے پروگراموں مےںبلا کر تبصرے کراتے رہے ، وزارت داخلہ کے طرز عمل پر انتہائی افسوس ہے۔ اسلم رئیسانی نے آج سپریم کورٹ میں اتحادیوں سمیت پیش ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا آج سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کیس میں اتحادیوں سمیت پیش ہونگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے۔ صوبائی حکومت کو آئینی جواز حاصل ہے۔ کوئی آئینی حیثیت مشکوک نہیں ہوئی۔ بلوچستان کے معاملات میں دلچسپی نہ لینے کے الزامات غلط ہیں۔ انہوں نے واضح کہا ہے کہ ایف سی ان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ اس بارے میں وزیر داخلہ رحمن ملک سے پوچھا جائے۔ انہوں نے اسلم بھوتانی کے حوالے سے کہا کہ میر جعفر اور میر صادق بھی ہوتے ہیں جس عہدیدار کے میری پارٹی رکنیت معطل کرنے کی بات کی ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ میری پارٹی کی رکنیت 5 روپے کی ہے۔ مجھے جمعیت علمائے اسلام (ف) رہنما نے اپنی جماعت کی دس روپے کی رکنیت کی پیشکش کی ہے۔ بلوچستان کے لئے ڈیڑھ ارب لاگت سے خریدے گئے طیارے کی ڈیوٹی معافی کے معاملہ کو حل کر لیں گے۔ آئس کریم کھلا دیں گے ٹھیک نہ ہوا تو انجکشن لگائیں گے۔ 25 ارب روپے کی گمشدگی اطلاعات غلط ہیں جس نے یہ خبر اڑائی ہے اس بارے ثابت کر دیں ہمیں ان میں سے صرف ایک روپیہ دے دے باقی خود رکھ لے۔ رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت ناکام نہیں ہوئی ، اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے نبھا رہے ہیں، تمام اتحادیوں کا اعتماد حاصل ہے۔ بلوچستان میں کرپشن ثابت ہو تو احتساب کیلئے تیار ہیں صوبے کے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں بلوچستان اسمبلی کے 60 اراکین کا اعتماد ہے ایف سی میرے ماتحت نہیں ہے۔ رحمان ملک بتائیں ایف سی کس کے ماتحت ہے صحافی برادری کو دورہ بلوچستان کی دعوت دیتا ہوں صحافی خود جا کر بلوچستان کی ترقی کا جائزہ لیں بلوچستان کے حالات دیگر صوبوں سے بہتر ہیں صوبے کے معاملات میں دلچسپی نہ لینے کا تاثر درست نہیں ہے اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے نبھارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کوئی میری پیپلز پارٹی کی رکنیت معطل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ میرے خلاف ناروا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جس میں کوئی سچائی نہیں آئین اور قانون کے مطابق سپریم کورٹ میں دفاع کریں گے۔ طیارہ 1992ء میں خریدا گیا تھا اب اس کے سپیئر پارٹس منگوائے گئے ہیں۔ صوبے کے معاملات میں دلچسپی نہ لینے کی باتیں پروپیگنڈا ہیں جس میں کوئی سچائی نہیں ہے جو لوگ ایسے کہتے ہیں وہ خود دلچسپی نہیں لیتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ناکام نہیں ہیں بیمار کو انجکشن دینگے۔ بے فکر رہیں میں سب ٹھیک کر دوں گا۔ رئیسانی نے کہا کہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کریں گے کسی بھی صوبائی وزیر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جواب دینے کا پابند نہیں۔ وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے اسلام آباد کے صحافیوں کو صوبے کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ آ کر خود دیکھیں کہ میرے دور میں بلوچستان حکومت اور عوام کا مکمل اعتماد وزیراعلی کو حاصل ہے کسی جماعت نے عدم اعتماد کا تصور بھی نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کے تمام وزراء کام کر رہے ہیں آج تک کسی نے مایوس ہو کر استعفی نہیں دیا۔ بلوچستان حکومت پر کرپشن کے جتنے بھی الزامات لگائے گئے ہیں احتساب کیلئے حاضر ہیں۔ وزیراعلی نے بھی چیلنج کیا کہ کرپشن ثابت کی جائے احتساب کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ پی ایس ڈی پی بلوچستان کا حق ہے اگر کرپشن کے ثبوت ہیں تو جیل جانے کیلئے بھی تیار ہیں۔ سپریم کورٹ جائیں گے تمام اسمبلی وزیراعلی نواب اسلم رئیسانی کے ساتھ ہو گی۔ رئیسانی نے بلوچستان امن و امان کیس میں سپریم کورٹ کے عبوری حکم پر مشاورت کے لئے کابینہ ارکان کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلی بلوچستان نے جمعہ کو کابینہ کے تمام ارکان کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے۔ بلوچستان کابنیہ کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں سپریم کورٹ کے زیر سماعت بلوچستان امن و امان کیس میں عدالت کے عبوری حکم پر مشاورت کی جائے گی۔