بلوچستان میں علیحدگی پسند بلوچ، کالعدم مذہبی تنظیمیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کے دہشتگرد تخریبی کارروائیوں میں مصروف

بلوچستان میں علیحدگی پسند بلوچ، کالعدم مذہبی تنظیمیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی

قیام پاکستان کے وقت بلوچ سرداروں نے ازخود الحاق پاکستان کا اعلان کیا۔ پاکستان بنتے ہی بھارت کے درپردہ عناصر صوبے کو وطن عزیز سے علیحدہ کرنے میں مصروف ہو گئے۔ 1948فوجی آمر ایوب خان نے 1963میں آپریشن کر ڈالا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سیاسی حکومت ختم کی اور فوجی آپریشن کرایا۔ ضیاءالحق کے دور حکومت میں بھی آپریشن ہوا پرویز مشرف بھی 2004میں چڑھ دوڑے۔2006میں ایک راکٹ حملے میں نواب اکبر بگٹی جاں بحق ہو گئے اور بلوچستان کے حالات سنگین ہو گئے۔ بھارتی دہشتگرد، کالعدم بی ایل اے، لشکر بلوچستان اور بی ایل یو ایف شاید اِسی موقع کی تلاش میں تھیں۔ انہوں نے دہشتگردی کی انتہا کر دی۔ کالعدم تنظیموں لشکر جھنگوی اور جنداللہ کے کارکن بھی متحرک ہو گئے۔ ہزارہ کمیونٹی پر کئی حملے کیے گئے۔ بلوچ دہشتگردوں نے پندرہ جون دو ہزار تیرہ کو قائداعظم ریذیڈنسی پر حملہ کیا۔2014 میں بلوچستان سے ڈیڑھ سو سے زائد افراد کی نعشیں برآمد ہوئیں۔ 2013میں 39نعشیں ملیں۔۔ اِسی طرح سترہ جنوری کو خضدار کے علاقے میں اجتماعی قبر دریافت ہوئی جس سے تیرہ افراد کی نعشیں نکلیں۔ 29مئی کی رات کو دہشتگردوں نے مستونگ کے مقام پر بسوں سے اتار کر 22پشتونوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔بھارت کے اشاروں پر ناچنے والے دہشتگردوں نے بلوچستان میں آگ لگا رکھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سفارتی محاذ پر انڈیا کو بے نقاب کرنے کے علاوہ دہشتگردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔