الیکشن کمیشن آف پاکستان نے لوئر دیر میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے سے متعلق فیصلہ سنا دیا

 الیکشن کمیشن آف پاکستان نے لوئر دیر میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے سے متعلق فیصلہ سنا دیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی کے 95 میں ضمنی انتخابات کے دوران خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے  سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پورے الیکشن کو کالعدم قرار دے دیا اور حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے۔   الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حلقے میں دوبارہ ضمنی الیکشن کے لیے تین روز میں شیڈول جاری کر دیا جائے گا ، الیکشن کمیشن نے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر ازخود نوٹس لیا تھا اور مسلسل کیس کی سماعت کی۔ تمام امیدواروں کو بیانات کے لیے طلب کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ تمام جماعتوں کی جانب سے ایک جرگے میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ خواتین ووٹ نہیں ڈال سکیں گی۔ الیکشن کمیشن نے سماعت کے بعد اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ خواتین کو ووٹ سے محروم کیا گیا لہذا حلقے کا الیکشن کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ ضمنی الیکشن میں جماعت اسلامی کے امیدوار اعزازالملک کامیاب ہوئے تھے ،پی کے 95  کی نشست سراج الحق کے سینیٹر منتخب ہونے پر خالی ہوئی تھی

ضلعی ریٹرنگ افسر نے نوشہرہ کے ستاسی پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کیلئے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا

 نوشہرہ میں ضلع بھر کے ستاسی  پولنگ اسٹیشنز پردوبارہ پولنگ کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا ہے،ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسر ذکا اللہ کے مطابق مذکورہ پولنگ اسٹیشنوں پر توڑ پھوڑ ،حملوں اورمبینہ طور پردھاندلی کی شکایات تھیں جس کے بعد  ان علاقوں میں دوبارہ پولنگ کرانے کے لئے  الیکشن کمیشن کو خط ارسال کر دیا ہے،اس سے قبل ریٹرننگ افسران پشاور کے اٹھائیس اور کرک  کےانچاس پولنگ اسٹیشنز پر ری پولنگ کے لئے الیکشن کمیشن کوخطوط ارسال کر چکے ہیں

پشاور میں آج دوسرے روز بھی بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کیخلاف احتجاجی مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے

 پشاور پریس کلب کے باہر آج دوسرے روز بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے ٹائرز جلا کر احتجاجی مظاہرے کیے،،مظاہرین نے شیر شاہ سوری روڈ کو بھی بند رکھا جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا،،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر الیکشن میں دھاندلی کے خلاف نعرے درج تھے،،مظاہرین  کا کہنا تھا کہ انتخابات کےدوران بدنظمی سے بڑی تعداد میں ووٹرز ووٹ ڈالنے سےمحروم رہ گئے جبکہ  بڑی سیاسی جماعتوں کی کارکن سادہ لوح خواتین سے بیلٹ پیپرز چھین کر ووٹ ڈالتی رہیں،،  انھوں نے مطالبہ کیا کہ جن علاقوں میں ووٹنگ کا عمل تعطل کا شکار رہا وہاں فوج کی نگرانی میں دوبارہ الیکشن کرایا جائے۔