امریکی فوجی کی رہائی طالبان سے مفاہمت میں اہم پیشرفت ثابت ہو گی: چک ہیگل‘ 5 ساتھیوں کی رہائی بڑی کامیابی ہے: ملاعمر، قطر کے حوالے کرنا غیرقانونی ہے: افغان حکام

امریکی فوجی کی رہائی طالبان سے مفاہمت میں  اہم پیشرفت ثابت ہو گی: چک ہیگل‘ 5 ساتھیوں کی رہائی بڑی کامیابی ہے: ملاعمر، قطر کے حوالے کرنا غیرقانونی ہے: افغان حکام

واشنگٹن+ کابل+ دوحہ (نمائندہ خصوصی+ اے ایف پی+ آن لائن) افغانستان نے امریکہ کی طرف سے رہا کئے جانے والے 5طالبان قیدیوں کو قطر حکومت کے حوالے کرنے کے اقدام کو غیرقانونی قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ افغانستان کے شہری ہیں ان کو ہمارے حوالے کیا جائے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے 5طالبان رہنمائوں کو امریکی فوجی برگڈل کی رہائی کے بدلے ایک معاہدے کے تحت رہائی دی تھی۔ قطر اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق طالبان قیدی ایک برس تک قطر میں باہر نہیں جا سکیں گے۔ افغانستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں قیدیوں کی کسی تیسرے ملک حوالگی کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔ قبل ازیں امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے اچانک افغانستان پہنچنے کے بعد کہا ہے کہ 10 ہزار فوجیوں کا سال کے آخر تک افغانستان سے انخلا ہو جائے گا، 2016ء تک صرف ایک ہزار فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے۔ امریکی وزیر دفاع اچانک افغانستان میں بگرام کے امریکی فوجی مرکز پر پہنچ گئے جہاں انہوں نے فوجی کمانڈرز سے افغان فوج کی تربیت اور رواں برس کے اختتام پر غیرملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے حوالے سے اْن کی استعداد کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ وزیر دفاع نے اس موقع پر امید ظاہر  کی کہ امریکی فوجی کی رہائی افغان شدت پسندوں سے مفاہمت میں اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان اپنی فوج کو بہتر بنانے کے لئے مزید اقدامات کرے۔ امریکی وزیر دفاع کے دورے سے  ایک روز قبل افغان طالبان نے پانچ سال تک قید رکھنے کے بعد امریکی فوجی سارجنٹ بووی بیرگڈل کو رہائی دی تھی۔ امریکی وزیر دفاع نے بگرام ائربیس سے امریکی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شدت پسندوں کے ساتھ امریکی فوجی کی رہائی کیلئے مذاکرات نہیں کئے۔ قومی سلامتی کی مشیر سوسن رائس نے کہا کہ طالبان کی قید میں برگڈل کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی تھی امریکہ کے سامنے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا کہ 28سالہ فوجی کی رہائی کیلئے ہر ضروری اقدام کرے۔ ادھر امریکی ا پوزیشن  جماعت ریپبلکنز نے ایک امریکی فوجی کے بدلے پانچ طالبان  رہنمائوں کو چھوڑنے پر صدر بارک اوباما پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے  آنے والے برسوں میں امریکی فوجیوں  کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، بااثر سینیٹر جان مکین نے اپنے بیان میں برگ ڈل کی رہائی کا خیر مقدم کیا تاہم مطالبہ کیا کہ ان اقدامات سے آگاہ کیا جائے  جو اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کئے گئے ہیں کہ طالبان انتہا پسند دوبارہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیخلاف جنگ نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد کو رہا کیا گیا ہے وہ انتہائی سخت گیر شدت پسند ہیں جن کے ہاتھ امریکیوں اور لاتعداد  افغان باشندوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں ۔ ریپبلیکنز کے کانگریس کے رکن مائیک روگرز نے اس فیصلے کو امریکی پالیسی میں بنیادی تبدیلی قرار دیا اور کہا کہ اس سے دنیا بھر میں شدت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی  اور انہیں اشارہ ملے گا کہ وہ امریکہ کو یرغمال بنا سکتے ہیں۔ افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل نے کہا ہے کہ امریکی فوجی بووی برگڈل کی رہائی کے بدلے میں گوانتاناموبے سے پانچ سینئر طالبان قیدیوں  کی رہائی امن مذاکرات کی بحالی کیلئے نیک شگون ہے۔ اسماعیل قاسم ہار نے فرانسیسی خبررساںادارے  کو بتایا کہ اس سے امن مذاکرات کے بارے میں افغانستان کے عزم کا پتہ چلتا ہے۔ ہم انتہائی پرامید ہیں کہ ان سینئر طالبان کی رہائی سے امن عمل میں مدد ملے گی۔ افغان طالبان نے پانچ سال تک یرغمال بنائے گئے  امریکی فوجی بووی برگڈل کی رہائی کے بدلے گوانتاناموبے سے اپنے  پانچ سینئر قیدیوں کی رہائی پر انتہائی مسرت کے ساتھ خیرمقدم کیا ہے۔ طالبان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان قیدیوں جو اس وقت قطر میں ہیں کی رہائی کے فیصلے سے افغان قوم بالخصوص اسلامی امارات مجاہدین کو زبردست خوشی اور مسرت حاصل ہوئی ہے۔ طالبان نے ان بیانات کی تردید کی کہ ایک امریکی فوجی اور اس کے بدلے میں پانچ طالبان رہنمائوں کی  رہائی کا مقصد سیاسی تعلقات قائم کرنا ہے۔ طالبان کے ترجمان  ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا سے رابطے پر کہا کہ یہ صرف جنگی قیدیوں کا تبادلہ ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس کا امن کے عمل سے کوئی تعلق ہے  انہوں نے کہا کہ ہم اپنے لوگوں کو بے گناہ سمجھتے ہیں اور ہمیشہ ہم نے ان کی  رہائی کا مطالبہ کیا ہے امریکہ نے انہیں رہا کرکے ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔ امریکی قید سے رہائی پانے والے طالبان رہنما اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں خیر اللہ خیر خواہ طالبان حکومت کے سابق وزیر داخلہ ہیں۔ انہیں پاکستانی حکام نے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا تھا جبکہ محمد فضل نائب وزیر دفاع تھے۔ ملا نور اللہ نوری صوبے بلخ کے گورنر رہ چکے ہیں چوتھے رہنما عبدالحق واثق طالبان کی حکومت میں انٹیلی جنس سروس کے نائب سربراہ تھے۔ رہائی پانے والے پانچویں قیدی محمد نبی غیر معروف شخصیت ہیں ان کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے بتایا جاتا ہے جس کی قید میں فوجی تھا۔ دریں اثناء امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ انہیں گوانتاناموبے کے پانچ قیدیوں کی سکیورٹی کے بارے میں قطر سے ضمانت حاصل ہے۔ امریکی فوجی کے بدلے امریکہ نے کیوبا کے جزیرے گوانتاناموبے سے پانچ افغان قیدیوں کو رہا کیا ہے اور انہیں قطر کے حوالے کیا ہے۔ واضح رہے کہ قطر نے قیدیوں کے اس تبادلے میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ برگڈل کے والدین نے کہا ہے یہ خبر سن کر کہ ان کا بیٹا رہا ہو گیا ہے اب وہ ’’مسرور اور مطمئن‘‘ ہیں۔ امریکی فوجی کی رہائی کے چند گھنٹوں بعد صدر بارک اوباما نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ قطری حکومت نے امریکہ کو اطمینان دلایا ہے کہ ’وہ ہمارے قومی مفاد کے تحفظ کے لئے اقدام کرے گی۔ انہوں نے قیدیوں کے تبادلے میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے قطری حکام کا شکریہ بھی ادا کیا۔ آن لائن کے مطابق امریکہ نے طالبان سے اپنے ایک کیپٹن  کو چھڑانے  اور طالبان کے پانچ اہم رہنمائوں کو چھوڑنے کے بارے میں معاہدہ انتہائی خفیہ رکھا اور افغان حکومت کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا جبکہ معاہدے کے تحت یہ طے پایا ہے کہ رہا کئے گئے طالبان رہنما ایک سال تک سفر نہیں کرسکیں گے اور ان کی سیاسی سرگرمیوں پر بھی پابندی ہوگی ۔ امریکی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق قطر نے امریکہ کو یقین دلایا ہے کہ ان طالبان رہنمائوں  کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ رہائی کے بعد امریکہ کیلئے خطرہ بنیں اس معاہدے میں  قطر نے  انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ طالبان کے سپریم لیڈر ملاعمر نے امریکی فوجی کے بدلے گوانتاناموبے جیل سے پانچ طالبان قیدیوں کی رہائی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیدیا۔ ملاعمر نے اپنے بیان میں قطر حکومت بالخصوص اس کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان رہنمائوں کی رہائی کے لئے مخلصانہ کوششیں کیں۔رہائی کے بعد ہمارے بیٹے برگڈل کو انگریزی بولنے میں دقت پیش آ رہی تھی۔ امریکی فوجی کے والدین نے ایک تقریب میں صدر اوباما کا شکریہ ادا کیا۔ اوباما نے اس موقع پر قطری حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
افغانستان/ امریکہ