لاہور ہائیکورٹ نے دہشت گرد فیض احمد کی سزائے موت پر پانچ جنوری تک عمل درآمد روک دیا،عدالت نے سپرنٹنڈنٹ فیصل آباد جیل کو ریکارڈ سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے دہشت گرد فیض احمد کی سزائے موت پر پانچ جنوری تک عمل درآمد روک دیا،عدالت نے سپرنٹنڈنٹ فیصل آباد جیل کو ریکارڈ سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالتی سماعت کے دوران دہشت گرد فیض احمد کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ فیض احمد کی سزاء کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل زیرالتوا ہے مگر اس کے باوجود سپرنٹنڈنٹ فیصل آباد جیل نے دہشت گردی عدالت سے بلیک وارنٹ حاصل کر لئے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہونے کے باوجود بلیک وارنٹ کیوں حاصل کئے گئے اور دہشت گردی عدالت سے حقائق کیوں چھپائے گئے، عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ عدالت نے دہشت گرد فیض احمد کی سزائے موت پر پانچ جنوری تک عمل درآمد روک دیا۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ فیصل آباد جیل کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔