قومی ایکشن پلان دہشت گردوں کو تباہ کر دیگا‘ اب کوئی غیرجانبدار نہیں رہ سکتا: نوازشریف

قومی ایکشن پلان دہشت گردوں کو تباہ کر دیگا‘ اب کوئی غیرجانبدار نہیں رہ سکتا: نوازشریف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ میرا مشن ہے، دہشت گردوں کو پاکستان کے کونے کونے سے ڈھونڈا جارہا ہے، انہیں کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، دہشت گردی کیخلاف پوری سیاسی قیادت متحد ہے، اس جنگ میں کوئی بھی غیرجانبدار نہیں رہ سکتا، دہشت گردی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے شکست دیکر عوام کو ہر صورت امن اور تحفظ فراہم کریں گے، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمارا ایکشن پلان دہشت گردوں کو تباہ و برباد کردیگا۔ وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا اور مشیران کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی شرکت کی۔ آرمی چیف نے شرکا کو کورکمانڈرز کانفرنس کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان جدید خطوط پر مکینزم کی تیاری کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت نیکٹا کو فوری طور پر فعال کرنے کے اقدامات شروع کردئیے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری جنگ، دہشت گردی، نفرت اور خوف کے خلاف ہے۔ دہشت گردوں کو انکے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس جنگ کو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں تک لے جائیں گے۔ درست وقت پر موثر اقدامات کرتے ہوئے کامیابی حاصل کریں گے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تمام ذرائع استعمال کئے جائیں گے اور سفارتی، عسکری اور انٹیلی جنس تمام پہلوؤں سے کارروائی کی جائیگی۔ نوازشریف نے کہا کہ دہشت گردی ختم کرنے کیلئے قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد اوّلین ترجیح ہے اسی لئے قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کیلئے باقاعدگی سے اجلاس ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پلان آف ایکشن سخت گیر دہشت گرد اہداف کی نشاندہی کریگا۔ ہم نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے بلکہ آئندہ کیلئے اسکا راستہ بھی روکیں گے۔ آنیوالے دنوں میں اپنے بچوں کو محفوظ بنانے کبلئے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو ہر ممکن مدد دیں گے۔ وزیر اعظم نے اجلاس کے دوران مشیر خارجہ سرتاج عزیزکو بھارتی فائرنگ سے شہید رینجرز اہلکاروں کا معاملہ بھارت کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کی۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیابیوں اور پشاور کے سانحہ میں بہنے والا خون ضائع نہ ہوجائے۔ اجلاس میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی تیز رفتاری سے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ قومی ایکشن پلان پر تمام قانونی اور آئینی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس ساڑھے تین گھنٹے جاری رہا۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے نیکٹا اجلاس پر شرکاء کو بریفنگ دی۔ چودھری نثار نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کو کام سے روکنے کی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ دہشت گردوں اور انکے ہمدردوں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی، دہشت گردوں سے لڑنے کے ساتھ اس سے بچاؤ کیلئے کوشش بھی کی جائیگی۔ بی بی سی کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کیخلاف جنگ میں سفارتکاری، ذہانت، قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور فوجی طاقت سمیت ہر طریقہ استعمال کیا جائیگا۔ پوری قوم اور سیاسی قیادت دہشت گردوں اور انکے مددگاروں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کیلئے متحد ہے۔