صدر نے سزائے موت کے 5 مجرموں کی رحم کی اپیلیں مسترد کردیں

صدر نے سزائے موت کے 5 مجرموں کی رحم کی اپیلیں مسترد کردیں

اسلام آباد +  کراچی  (ایجنسیاں + اپنے سٹاف رپورٹر سے   ) صدر مملکت ممنون حسین نے موت کی سزا پانے والے 5 مجرموں کی رحم کی اپیلیں مسترد کردیں۔ گزشتہ روز صدر نے قتل کے جرم میں موت کی سزا پانے والے مجرم صولت مرزا، محمد سعید اعوان، طلحہ حسین، شاہد حنیف اور خلیق احمد کی رحم کی اپیلیں مسترد کیں جنہیں تختہ دار پر لٹکایا جائیگا جبکہ وفاقی محکمہ داخلہ نے سندھ حکومت کو بذریعہ خط آگاہ کردیا ہے کہ صدر نے پانچوں مجرموں کی رحم کی اپیلیں مسترد کردی ہیں لہٰذا قانونی طریقہ کار اپناتے ہوئے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔واضح رہے عدالت سے موت کی سزا پانے والے مجرم صولت مرزا سابق ایم ڈی کے الیکٹرک ملک شاہد حامد کے قتل میں ملوث تھے جنہیں عدالت نے 1999ء میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا، جب کہ محمد سعید اعوان پر الفلاح تھانے میں قتل کے 20 مقدمات درج ہیں۔ دیگر سزائے موت پانے والے مجرم طلحہ حسین، محمد شاہد اور مجرم خلیق احمد کے خلاف گلبہار تھانے میں قتل کے مقدمات درج تھے۔ علاوہ ازیں دہشت گردی کے 8 مجرموں کی رحم کی اپیلیں وزیراعظم کو بھجوا دی گئیں۔ وفاقی وزارت داخلہ کو اپیلیں صوبائی محکمہ داخلہ نے بھجوائیں۔ آئندہ چند روز میں اپیلیں مسترد یا منظور کرنے کا امکان ہے۔ صدر رحم کی اپیلوں پر حتمی فیصلہ کریں گے۔ علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ میں فیصل آباد سینٹرل جیل میں قید سزائے موت کے منتظر فیض احمد نے ڈیتھ وارنٹ کو چیلنج کر دیا۔ جمعرات کو دائر اپنی درخواست میں سزائے موت کے قیدی فیض احمد نے موقف اپنایا ہے کہ سزائے موت کیخلاف اپیل زیرسماعت ہے اسلئے سزا احکامات کالعدم قرار دیے جائیں۔ فیض احمد کو 2006ء میں فوج کے لائنس نائیک فاروق کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی تھی۔راولپنڈی سے اپنے سٹاف رپورٹر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس عبادالرحمن لودھی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے دہشت گردی کے مختلف واقعات میں ملوث پانچ ملزمان کی جانب سے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی کی اپیلیں خارج کردیں اور فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا بحال رکھی ہے۔ ان میں سے چار ملزمان نے عدالت عالیہ میں فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت اور ایک ملزم نے 7 سال سزا کے خلاف نظرثانی کی اپیلیں دائر کیں نیشنل بینک مال روڈ پر ہونے والے خودکش دھماکہ میں عبدالمالک اور غلام نبی اور دہشت گردی کے الزام میں واجد محمود، محمد افضل اور عدنان پر جی ایچ کیو حملہ میں ملوث ہونے پر سزا ہوئی۔ فوجی عدالت نے عبدالمالک، غلام نبی، افضل اور واجد کو سزائے موت کی سزا دی جبکہ عدنان کو سات سال کی سزا ہوئی۔ عبدالمالک اور غلام نبی ان دنوں فیصل آباد جیل میں ہیں جبکہ عدنان، واجد محمود اور محمد افضل پر حساس تنصیبات پر حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کا الزام تھا۔