تھرپارکر پاکستان وہ بدقسمت علاقہ ہے جہاں کے بےبس عوام قدرت اور نااہل حکمرانوں کے رحم وکرم پر ہیں آج بھی3 معصوم جان سے گئےرواں ماہ ہلاکتوں کی تعداد ایک سو سولہ ہو گئیلیکن نہ رحمت خداوندی کو جوش آیا نہ حکمرانوں کوہوش

تھرپارکر پاکستان وہ بدقسمت علاقہ ہے جہاں کے بےبس عوام قدرت اور نااہل حکمرانوں کے رحم وکرم پر ہیں آج بھی3 معصوم جان سے گئےرواں ماہ ہلاکتوں کی تعداد ایک سو سولہ ہو گئیلیکن نہ رحمت خداوندی کو جوش آیا نہ حکمرانوں کوہوش

قیامت کی سردی کھانے کو غذا نہیں سر چھپانے کا آسرا نہیں اور کوئی مسیحا نہیں ہاں تماشہ دیکھنے والے اور درد بیچنے والے بے شمار،،یہ ہے احوال تھرپارکر کاآج  بھی مائیں  بچوں کو موت کےمنہ میں جاتا دیکھتی رہیںصحرائی علاقوں مٹھی، ڈیپلو اور ننگرپارکر کے اسپتالوں میں 150 سے زائد بچے اب بھی زیر علاج ہیں،تھر میں غزائی قلت کے ساتھ ساتھ سردی بھی بچوں کی اموات اور بیماریوں میں تیزی سے اضافے کا سبب بن رہی ہے۔دسمبر 2014میں 117 سے زائد بچے لقمہ اجل بنے گزشتہ تین ماہ کے دوران تھر میں تین سو گیارہ ہلاکتیں ہوئی ہیں ،،سال کے دوران تھر میں دُنیا سے رُخصت ہونے والے بچوں کی تعداد 701 سے تجاوز کر چکی ہے،،جنوری کے مہینے کی سخت سردی میں بچوں میں قلت اور نمونیا سمیت دیگر بیماریوں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔