مشرف اپنی رہائش گاہ کے قریب خود بم رکھواتے ہیں ‘ فوج کی طرف سے تردید کرنا میری اتھارٹی ہے : خواجہ آصف

مشرف اپنی رہائش گاہ  کے قریب خود بم رکھواتے ہیں ‘ فوج کی طرف سے تردید کرنا میری اتھارٹی ہے : خواجہ آصف

اسلام آباد (اے این این) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کو سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں، رہائش گاہ کے اردگرد بم وہ خود رکھواتے ہیں، فوج پرویز مشرف کے ساتھ نہیں، وہ خام خیالی میں ہیں، فوج کو سابق صدر کے بیانات کی تردید کی بھی ضرورت نہیں، بیان بازی فوج نہیں سیاستدانوں کا کام ہے، فوج کی طرف سے تردید کرنا میری اتھارٹی ہے، پرویز مشرف دوسروں پر ذمہ داری ڈال کر بچ نہیں سکتے، ’’اب شیر بنیں شیر‘‘۔ سابق صدر کے وکلاء اپنا مافی الضمیر بیان نہیں کرتے، پیسوں کی بات بولتے ہیں، پرویز مشرف نے دس سال قومی خزانہ لوٹ کر کئی لوگوں کو خرید رکھا ہے، ان کے خلاف 1999ء کے مارشل لاء اور کرگل کے واقعہ کا مقدمہ بھی چلنا چاہیے، جنرل محمود اور مشرف کے دیگر ساتھیوں کو بھی سزا ملنی چاہیے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پرویز مشرف دس سال تک ملک کے حکمران اور سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں، اس دوران انہوں نے قومی خزانہ لوٹ کر بہت سی دولت اکٹھی کی، کئی لوگوں کو خریدا، اپنے گھر کے اردگرد دھماکہ خیز مواد وہ خود رکھواتے ہیں، یہ کام وہی لوگ کرتے ہیں جو ان کے خریدے ہوئے ہیں۔ وہ اس مقصد کیلئے لوٹا ہوا مال استعمال کرتے ہیں، پرویز مشرف کے خلاف کرپشن کا مقدمہ بھی چلنے چاہیے، سابق صدر کو عدالت میں ضرور آنا ہوگا، آئین توڑنے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔ 1999ء کے مارشل لاء سے قبل پرویز مشرف کو آرمی چیف کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اس کے بعد ان کا ہر اقدام غیر قانونی ہے، مشرف نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔ ملک میں سیاسی بلوغت آگئی ہے جس میں فوج سمیت تمام اداروں کا کردار ہے، مارشل لاء کا دور گزر گیا لیکن پرویز مشرف اسی میں پھنسے ہوئے ہیں وہ دوبارہ مارشل لاء چاہتے ہیں۔ غداری کے مقدمے میں فوج کو کوئی پریشانی نہیں، فوج پرویز مشرف کے ساتھ نہیں، یہ ان کی خام خیالی ہے، فوج کو پرویز مشرف کے کسی بیان کی تردید کرنے کی ضرورت نہیں بطور وزیر دفاع یہ میری اتھارٹی ہ، میں پرزور تردید کرتا ہوں کہ فوج پرویز مشرف کے ساتھ نہیں۔ پرویز مشرف فوج کو سیاست میں گھسیٹنا چاہتے ہیں۔ پاک فوج نے منور حسن کے بیان کی تردید کرکے درست قدم اٹھایا تھا، منور حسن نے شہداء کے لوگوں کی براہ راست توہین کی تھی اس لئے اس پر بولنا فوج کا حق تھا۔ عدالت سے جاری ہونے والا ہر فیصلہ پبلک پراپرٹی ہوتی ہے جن کا حوالہ دینا نواز شریف سمیت ہر شخص کا حق ہے اس میں توہین عدالت کی کوئی بات نہیں۔ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ پرویز مشرف نے جو ظلم کئے، لوگوں کو بیچا، اس کی سزا ضرور پائے گا اور اپنے انجام کو پہنچے گا۔ پرویز مشرف کی جانب سے مارشل لاء کو جواز بخشنے کیلئے ڈالر کی دلیل دینا ان کے جاہل ہونے کا ثبوت ہے، ڈالر کے ساتھ دیگر کرنسیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ عدالتوں میں ہم بھی پیش ہورہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے لوگ بھی پیش ہوتے رہے ہیں، خلفائے راشدین بھی قاضی کے سامنے پیش ہوا کرتے تھے۔ کسی کی پیشی کو ایمرجنسی کا جواز بنانا درست نہیں۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے ذمہ دار صرف پرویز مشرف ہیں۔ انہوں نے تقریر میں اس کا اعتراف کیا پرویز مشرف کے خلاف 1999ء کے مارشل لا اور کرگل کے واقعہ کا بھی مقدمہ چلنا چاہیے، اس کی انکوائری ہونی چاہیے۔ پرویز مشرف جب اقتدار میں تھے تو مکے لہرا کر باتیں کرتے تھے، اب وہ اپنے کرتوتوں کا ملبہ کسی اور پر نہ ڈالیں، ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر بچا نہیں جاسکتا، کسی ادارے کو دوسرے پر فوقیت نہیں ہونی چاہیے ہم نے اٹک کے قلعے میں صعوبتیں برداشت کی ہیں جبکہ پرویز مشرف اپنے گھر میں ہے۔مشرف نے دولت کے بل پر لوگوں کو باہر بلوا کر ٹکٹ دیئے، 2013ء میں ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار منتقل ہونا 65 سالہ تاریخ میں بڑی کامیابی ہے۔آن لائن کے مطابق  خواجہ محمد آصف نے کہا  کہ پرویز مشرف کو عدالت میں ضرور لائیں گے۔ فوج پرویز مشرف کے ساتھ ہے  نہ ہی ناراض  بطور وزیر دفاع پرویز مشرف کے بیان کی تردید کرتا ہوں۔ پرویز مشرف نے بے شمار دولت اکٹھی کی لندن اور دبئی میں جائیداد بنائی۔ پرویز مشرف پر کرپشن کا مقدمہ بھی ضرور چلنا چاہیے۔ پرویز مشرف نے اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی  دو دفعہ آئین کو توڑا۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے جو جرم کئے ہیں ان کی اسے سزا ضرور ملنی چاہیے اور اسے اپنے انجام تک پہنچنا چاہیے۔