مذاکرات مخالف طالبان اپنا ذہن بدلیں : نثار‘ حکومتی کوششوں پر مکمل اعتماد ہے : فضل الرحمن

مذاکرات مخالف طالبان اپنا ذہن بدلیں : نثار‘ حکومتی کوششوں پر مکمل اعتماد ہے : فضل الرحمن

اسلام آباد (ایجنسیاں + نوائے وقت رپورٹ) وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ طالبان کے کچھ دھڑے مذاکرات کے مخالف ہیں، ایسے گرو ہ اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کر کے سیاسی قیادت کے پیغام کا مثبت جواب دیں۔ وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق بدھ کی شام مولانا فضل الرحمن نے چودھری نثار سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال خاص طور پر قبائلی علاقوں میں امن و استحکام سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چودھری نثار علی خان نے حکومت کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتی ہے اور خلوص نیت کے ساتھ مذاکرات کے راستے پر عمل پیرا ہے۔ دوسری طرف سے بھی اسی قسم کے ردعمل کی ضرورت ہے۔ اس بات پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت اپنے ملک کے ایک ایک انچ اور ہر شہری کے تحفظ کیلئے نہ صرف پرعزم ہے بلکہ اس کی مکمل صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کی امن کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن و استحکام کیلئے اقدامات اٹھانے کا یہ صحیح وقت ہے۔ فاٹا کے عوام کئی دہائیوں سے متاثر ہو رہے ہیں اور وہ امن چاہتے ہیں۔ ہم پورے پاکستان کے عوام کیلئے امن کے خواہشمند ہیں اور ہماری جماعت قبائلی علاقوں میں قیام امن کیلئے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت طالبان سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے مگر طالبان کی طرف سے بھی مثبت جواب آنا چاہئے، فاٹا میں بہت خون بہہ چکا اب وہاں قیام امن ضروری ہے۔ حکومت تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہشمند ہے اور دوسری جانب سے بھی ایسے ہی مثبت ردعمل کی توقع رکھتے ہیں۔ ملاقات میں فاٹا کی تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنیوالوں سے سختی سے نمٹا جائیگا۔ طالبان کے بعض دھڑے مذاکرات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ فاٹا کے لوگ امن چاہتے ہیں، وہاں بہت خون بہہ چکا ہے اب قیام امن کی ضرورت ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے طالبان کے بعض گروپوں سے روابط سے متعلق بریف کیا اور شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔