غداری ناقابل ضمانت جرم ہے ‘ تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں‘ مشرف آج ہر صورت پیش ہوں ورنہ گرفتاری کا حکم دیں گے: خصوصی عدالت

غداری ناقابل ضمانت جرم ہے ‘ تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں‘ مشرف آج ہر صورت پیش ہوں ورنہ گرفتاری کا حکم دیں گے: خصوصی عدالت

 اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نیوز ایجنسیاں) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت گذشتہ روز خصوصی عدالت میں جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں ہوئی۔ سابق صدر سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوئے، فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں آج ہر صورت عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی صورت میں عدالت ان کی گرفتاری سے متعلق حکم دینے پر مجبور ہو گی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ غداری ایک ناقابل ضمانت جرم ہے لیکن ابھی تک عدالت اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ وہ سابق صدر ہیں اس لئے عدالت ان کی تضحیک نہیں چاہتی۔ اگر پیش نہ کیا گیا تو وارنٹ جاری کریں گے، فی الحال گرفتاری کا حکم نہیں دینا چاہتے۔ پرویز مشرف کو ایک بار پھر عارضی استثنیٰ دیا جاتا ہے۔ خصوصی عدالت کے دیگر ججز میں جسٹس طاہرہ صفدر اور جسٹس یاور علی بھی شامل ہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ طلبی کے باوجود پرویز مشرف پیش کیوں نہیں ہوئے۔ اس پر احمد رضا قصوری نے کہا کہ ان کو عدالت میں آتے ہوئے جان کا خطرہ ہے، وہ عدالت میں پیش ہوں گے لیکن اگر انہیں کچھ ہو گیا تو ذمہ دار عدالت ہو گی۔ اس پر جسٹس فیصل عرب نے ان سے کہا کہ آپ دلائل پیش کریں، ہمیں دھمکیاں نہ دیں۔ آپ استثنیٰ کی درخواست دے رہے ہیں جبکہ ضمانت کی درخواست نہیں دی۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ مقدمے کے لئے کھلے آسمان کے نیچے عدالت لگا دی گئی ہے۔ یہاں کچھ ہوا تو کئی لوگوں کا نقصان ہو گا۔ یہ شیکسپیئر کے ڈرامہ کا تھیٹر لگتا ہے ججز کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ کے خدشات کا احترام ہے لیکن عدالتیں تو جنگ کے دوران بھی اپنا کام جاری رکھتی ہیں اور ہم بھی کام جاری رکھیں گے، عدالت خوفزدہ نہیں ہے۔ مشرف کے وکیل انور منصور خان نے کہا کہ یہ عدالت پرویز مشرف سے عناد رکھنے والے وزیراعظم نواز شریف اور سابق چیف جسٹس کی مشاورت سے بنی ہے اس لئے یہ غیر جانبدار نہیں ہو سکتی۔ خصوصی عدالت وزیراعظم کی ہدایت پر بنائی گئی جنہوں نے سیکرٹری داخلہ کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ وہ ایف آئی اے کی ٹیم تشکیل دے کر پرویز مشرف کے خلاف تحقیقات کرائیں، سابق صدر کی عدم حاضری کے حوالے سے پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے کہا کہ گھر سے خصوصی عدالت تک راستے میں کئی خطرناک مقامات ہیں۔ عدالت کے استفسار پر ڈی آئی جی سکیورٹی نے بتایا کہ عدالت میں پیشی کے لئے سکیورٹی کے مناسب اقدامات کئے گئے ہیں۔ بلٹ پروف گاڑی بھی ہے لیکن بم پروف گاڑی نہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ پرویز مشرف ضمانت پر نہیں، انہیں کوئی بھی پولیس افسر گرفتار کر سکتا ہے۔ سماعت کے موقع پر پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ اکرم شیخ اور پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری کے درمیان تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔ اکرم شیخ عدالت میں پیش ہوئے تو احمد رضا قصوری نے کہا کہ اکرم شیخ کے میاں نوازشریف سے ذاتی تعلقات ہیں، اس لئے انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ پراسیکیوٹر نہیں بلکہ سیکوٹر ہیں۔ اس پر اکرم شیخ نے کہا کہ آپ اپنی آواز نیچی رکھیں ورنہ میری آواز آپ سے زیادہ اونچی ہے۔ بعدازاں پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے خصوصی عدالت کی تشکیل اور دائرہ کار سے متعلق بحث کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت وفاقی حکومت وزیراعظم اور کابینہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ غداری کیس چلانے کا فیصلہ نوازشریف کا ہے حکومت کا نہیں اور پرویز مشرف کے خلاف فرد واحد کا فیصلہ انتقامی کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ اکیلے پرویز مشرف کا فیصلہ نہیں تھا۔ خصوصی عدالت نہ تو سابق صدر کو گرفتار کرنے کا حکم دے سکتی ہے اور نہ یہ وارنٹ جاری کرنے کی مجاز ہے۔ یہ عدالت اس وقت بننی چاہئے تھی جب تحقیقات کے بعد الزام ثابت ہو جاتا۔ اس موقع پر اکرم شیخ نے کہا کہ ملزم کو عدالت کے روبرو پیش ہونا چاہئے تھا۔ عدالت نے انہیں حاضر ہونے کے احکامات دئیے ہیں جن پر ہر صورت میں عملدرآمد ہونا چاہئے۔ جب تک وہ حاضر نہیں ہوں گے کیس آگے نہیں بڑھ سکتا۔ عدالتی وقفہ کے بعد پرویز مشرف کے وکلا نے خصوصی عدالت کی تشکیل اور ججز پر اعتراضات اٹھا دئیے۔ انور منصور ایڈووکیٹ نے کہا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اور ہمارا دوسرا اعتراض ججوں کے متعصب ہونے کے حوالے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس فیصل عرب نے پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف نہیں لیا۔ اس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ مجھے تین مرتبہ پی سی او کے تحت حلف لینے کی پیشکش کی گئی لیکن میں نے انکار کیا۔ انور منصور نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کی مشاورت کے بعد بننے والی عدالت ایکٹ کے مطابق نہیں رہی۔ پرویز مشرف کے وکلا نے خصوصی عدالت کی تشکیل پر اپنے اعتراضات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون کی نمائندہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بھی تحقیقات سے قبل پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا۔ قانون میں واضح ہے کہ وفاق آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ کی کارروائی کے لئے کسی شخص کو شکایت کنندہ تجویز کرے گا۔ شکایت کنندہ کا تقرر کئے بغیر شکایت درج ہی نہیں ہو سکتی۔ شکایت کے حوالے سے سپریم کورٹ نے بھی ہدایت دی تھی جس پر سابق صدر کے خلاف شکایت درج کرائی گئی۔ یہ اقدام باقاعدہ سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ انور منصور نے کہا کہ خصوصی عدالت کے ججز کا نوٹیفکیشن بھی مروجہ طریقہ کار کے مطابق نہیں اور ایگزیکٹو کا طرز عمل بھی قانون کے مطابق نہیں ہے۔ اس کیس میں کوئی باقاعدہ شکایت کنندہ نہیں ہے۔ اس موقع پر پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی جی سے پوچھا جائے کہ انہوں نے پرویز مشرف کی سکیورٹی کے لئے کیا انتظامات کئے ہیں۔ خصوصی عدالت نے آئی جی اسلام آباد سکندر حیات کو روسٹرم پر بلاتے ہوئے ان سے پرویز مشرف کو سکیورٹی فراہم کرنے سے متعلق استفسار کیا۔ آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ عام طور پر وی وی آئی پی کے لئے 500 سے 700 اہلکار تعینات کئے جاتے ہیں لیکن پرویز مشرف کی عدالت میں حاضری کے لئے ایک ہزار اہلکار تعینات کئے گئے۔ عدالت نے سکیورٹی کے مناسب انتظامات کئے جانے کے بعد سابق صدر کو آج ہر صورت عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ ڈی آئی جی سکیورٹی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سابق صدر کا عدالت تک کا سفر بالکل محفوظ ہے، ملزم کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ آن لائن کے مطابق آئی جی نے کہا کہ مشرف سابق صدر ہیں ان کو گرفتار نہیں کیا جائے گا تاہم عدالتی حکم کی تعمیل نہ ہونے کی صورت میں انہیں تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔ سابق صدر کے وکلا کی جانب سے مقدمہ آرمی ایکٹ کے تحت چلانے کے لئے اور سماعت 5 ہفتے تک ملتوی کرنے کے لئے درخواستیں دائر کی گئیں۔ سماعت کے آغاز پر مشرف کے وکیل خالد رانجھا نے کہا کہ وزیراعظم یہ بیان دے کر کہ مشرف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی کافی ہے، ٹرائل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔