بلدیاتی انتخابات کرانا پنجاب حکومت نہیں ‘ الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے : رانا ثنا

بلدیاتی انتخابات کرانا پنجاب حکومت نہیں ‘ الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے : رانا ثنا

لاہور (خصوصی نامہ نگار) صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کرانا پنجاب حکومت نہیں الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے، انتخابی شیڈول متاثر ہونے پر الیکشن کمشن ہی سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے، عدالتی فیصلے میں پنجاب حکومت کو نئی قانون سازی کا حکم دیا گیا ہے جس کے لئے دو سے تین ماہ کا وقت لگ سکتا ہے اور اسکے بعد الیکشن کمشن حلقہ بندیوں کا مرحلہ شروع کریگا جس میں چار سے چھ ماہ کا عرصہ درکار ہے، جنرل مشرف نے جو آئین توڑنے کا اقدام اٹھایا وہ کمانڈنگ پوزیشن میں اٹھایا اور ماتحت اس کی بجا آوری کیلئے مجبور تھے، مشرف کو سزا ملنا آئین اور جمہوریت کے استحکام کیلئے ضروری ہے، انتخابی مہم کے دوران امیدواروں کے  اخراجات کا نوٹس لینا عدالت کی ذمہ داری ہے، پنجاب حکومت جوابدہ نہیں ہے،  مولانا سمیع الحق کو طالبان سے بات چیت یہ ذمہ داری اس لئے دی گئی کیونکہ ملا عمر  ان کے مدرسے میں پڑھتے رہے ہیں، عمران خان اور طاہر القادری کا فی الحال کوئی مستقبل نہیں، 2018ء تک ان کا حال صفر جمع صفر برابر صفر ہی ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے  پنجاب اسمبلی کیفے ٹیریا میں پریس کانفرنس میں کیا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے حلقہ بندیاں کالعدم قرار دیئے جانے کے فیصلے کا احترام اور اسے تسلیم کرتے ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں کی تشکیل کا بل اسمبلی میں منظوری کیلئے لایا جائے گا جس کی منظوری کیلئے اسمبلی میں 3ماہ جبکہ بعد میں الیکشن کمشن کے پاس جانے پر 4 سے 6ماہ اوراس سے زائد عرصہ بھی لگ سکتا ہے، 1998ء کی مردم شماری پر انتخابات کروانا کوئی آسان کام نہیں، اس پر قانون سازی کیلئے ایک لمبا عرصہ درکار ہے، امیدواروں نے جن حلقہ بندیوں کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جب وہ حلقہ بندیاںہی کالعدم قرار دی جاچکی ہیں تو پھر ان پر 30جنوری کو ان کے مطابق پولنگ کیسے ہو سکتی ہے، ہم نے پہلے بھی حلقہ بندیوں کے اختیار کیلئے الیکشن کمشن کو پیشکش کی تھی لیکن الیکشن کمشن نے عدالت کے فیصلے کے بعد یہ ذمہ داری صوبے کو دیدی، ہم اب بھی یہ ذمہ داری الیکشن کمشن کو دینے کو تیار ہیں۔ ہمیں مشرف کے ساتھ ہمدردی ہے ان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، فوج ایک قومی ادارہ ہے اور اسے ایک ایسے شخص کے ساتھ منسلک کرنا جو 13سال تک اس ملک کے سیاہ و سفید کا مالک رہا ایک انتہائی نامناسب بات ہے۔ مشرف کو مجرمانہ ایکٹ میں کوئی رعایت حاصل نہیں اور ویسے بھی یہ ایک سول ایکٹ ہے اس کے تحت ان کو کسی رعایت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جو لوگ پرویز مشرف کے راستے میں عدالت جاتے ہوئے بم رکھ دیتے ہیںان کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دہشت گردوںکا تعلق کسی ایک خاص علاقے سے نہیں وہ چاروں صوبوں میں پھیل چکے ہیں، یہ مجاہدین ہی ہیں جو بعد میں دہشت گرد گروہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ زردار ی نے بلے کا لفظ صرف مشرف کیلئے استعمال کیا اس کے خلاف کسی کو ابہام میں نہ ڈالا جائے۔ وزیراعظم بزنس لون سکیم کی شرائط آسان ہیں اور عام آدمی کی دسترس میں ہیں۔ شیخ رشید جیسے لوگ اس کے خلاف باتیں کررہے ہیں لیکن اس منصوبے کو ہر قیمت پر کامیاب کروایا جائے گا۔