لسبیلہ: اغوا کاروں نے اڑھائی ماہ بعد کوئٹہ کے ڈاکٹر مناف کو چھوڑ دیا‘ 5 کروڑ روپے تاوان دیا گیا: پی ایم اے

لسبیلہ: اغوا کاروں نے اڑھائی ماہ بعد کوئٹہ کے ڈاکٹر مناف کو چھوڑ دیا‘ 5 کروڑ روپے تاوان دیا گیا: پی ایم اے

کوئٹہ / اوتھل (نیٹ نیوز+ آئی این پی+ثناء نیوز) کوئٹہ سے اڑھائی ماہ قبل اغواء کئے جانے والے ماہر امراض قلب ڈاکٹر مناف ترین کو اغواء کار اوتھل میں چھوڑ کر فرار ہوگئے، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں،گھر میں مبارک باد دینے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ اتوار کو کوئٹہ سے اڑھائی ماہ قبل اغوا ہونے والے ماہر امراض قلب ڈاکٹر مناف ترین اوتھل سے بازیاب ہو گئے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لسبیلہ احمد نواز چیمہ نے ڈاکٹر مناف ترین کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کراچی سے کوئٹہ بھجوا دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر مناف کو رواں برس 17 ستمبر کو کوئٹہ سے اغوا کیا گیا۔ انہیں اغواء کار گزشتہ شب ساڑھے تین بجے لسبیلہ کے قریب اوتھل میں ایک ہوٹل کے قریب چلتی گاڑی سے پھینک گئے جس کی وجہ سے شدید چوٹیں آئیں اسکے علاوہ ان کے جسم پر تشدد کے بھی نشانات تھے جس کی وجہ سے انہیں شدید تکلیف محسوس ہورہی تھی۔ اطلاع ملنے پر لسبیلہ پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور ڈاکٹر مناف کو طبی امداد کے لئے فوری طور پر ہسپتال منتقل کرکے ابتدائی طبی امداد دی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مناف ترین کی دماغی حالت کافی متاثر ہوئی ہے۔ ڈاکٹر مناف گذشتہ سہ پہر کراچی سے بذریعہ طیارہ کوئٹہ پہنچے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ معلوم نہیں انہیں رہائی تاوان کے بدلے ملی یا ایسے ہی ہوئی۔ مجھے اغواء کاروں نے لسبیلہ سے ایک کلو میٹر دور چھوڑا، اغواء کاروں کی طرف سے چھوڑے جانے کے بعد میں نے پولیس کو اطلاع دی۔ کمشنر، ڈی آئی جی اور ساری پولیس موقع پر پہنچ گئی پھر ڈی پی او احمد نواز چیمہ اپنے گھر لے گئے جہاں ڈاکٹر نے میرا طبی معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں عوام، ڈاکٹر برادری، اپنے دوستوں اور میڈیا کا مشکور ہوں جنہوں نے میری رہائی کیلئے دعائیں اور کوششیں کیں۔ دریں اثناء پی ایم اے بلوچستان کے صدر ڈاکٹر سلطان ترین نے صحافیوں کو کوئٹہ میں بتایا کہ ڈاکٹر مناف ترین کی رہائی میں حکومت یا پولیس کا کوئی کردار نہیں ان کی رہائی کیلئے 5کروڑ روپے تاوان دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جنگل کا قانون رائج ہے، پولیس اور انتظامیہ ڈاکٹروں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی۔ انہوں نے کہاکہ آج پی ایم اے جنرل باڈی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں احتجاج ختم کرنے یا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جائیگا۔ بی بی سی کے مطابق بلوچستان میں گذشتہ چند سالوں سے اغواء برائے تاوان کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے اور صوبے کے سابق صوبائی وزیر داخلہ میر ظفر اللہ زہری نے گذشتہ برس ایک انٹرویو کے دوران الزام عائد کیا تھا اغوا برائے تاوان میں بعض وزراء بھی ملوث ہیں۔ اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور صوبائی حکومت کو کئی بار ہدایت کی تھی کہ وہ اس میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (بلوچستان) کے اعدادو شمار کے مطابق بلوچستان میں گذشتہ چند سال کے دوران 28ڈاکٹروں کو قتل کیا گیا ہے جبکہ 16ڈاکٹروں کو تاوان کے لئے اغوا کیا گیا۔