امریکی فوج کی افغانستان میں موجودگی خطے کیلئے خطرناک ہو گی‘ ڈرون حملے قبول نہیں: فضل الرحمن

امریکی فوج کی افغانستان میں موجودگی خطے کیلئے خطرناک ہو گی‘ ڈرون حملے قبول نہیں: فضل الرحمن

سکھر (نوائے وقت نیوز +  ایجنسیاں) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ڈرون حملے روکنے کیلئے قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔  امریکی فوج  کی  افغانستان میں موجودگی خطے کے لئے خطرناک ہو گی۔  صورتحال  پر خطے  کے ممالک کو مشترکہ  حکمت عملی  بنانی چاہئے۔  امریکی  مداخلت  روکنے  کیلئے سیاسی  جماعتوں  کو سولوفلائٹ  کی بجائے ایک لائن پر آنا  ہو گا،  تحفظ پاکستان آرڈیننس  کسی صورت قبول نہیں کرینگے،  تحریک انصاف  نے  صوبائی حکومت  کی  ناکامیاں  چھپانے کیلئے  قوم کو تقسیم اور قومی اتفاق رائے  کو سبوتاژ  کیا،  تنہا پروازوں  سے فائدہ  امریکہ  کو ہو گا۔ سکھر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے قابل قبول نہیں۔ ڈرون حملوں سے متعلق واضح پالیسی ہونی چاہئے۔ حملے روکنے کیلئے قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔ امریکی مداخلت روکنے کے لئے سب کو ایک پچ پر آنا ہو گا۔ سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس انسانی حقوق کو پامال کرتا ہے ہم اس آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں۔ امریکہ کے حوالے سے خطے کے ممالک کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔  ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات ہماری اولین ترجیح ہے۔  تمام جماعتوں نے حکومت کو طالبان سے مذاکرات کرنے کا مینڈیٹ دیا تھا، مذاکرات کو آگے بڑھانا حکمرانوں کا کام ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مشرف کو سزا ہونی ہے یا نہیں یہ فیصلہ عدالتوں کو کرنا ہے، مشرف کو سزا دینا میرا نہیں عدالتوں کا کام ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا خطے میں طالبان اور شدت پسندوں کی موجودگی خطرہ تھی آج امریکہ کا افغانستان میں قیام خطرناک ہو گا۔  جس سے نمٹنے کیلئے تمام ممالک  کو مل کر حکمت  عملی  بنانا ہو گی۔  نیٹو  سپلائی کی بحالی  کے لئے ٹرانسپورٹرز  کی دھمکی  کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔  ٹرانسپورٹرز کسی صورت خیبر  پی کے کو تیل کی فراہمی نہیں روک سکتے،  یہ امریکی ملازم نہیں پاکستان کے ملازم ہیں۔  نیٹو سپلائی  روکنے کے معاملے  پر  فضل الرحمن  نے کہا  کہ ان کی جماعت نے حکیم اللہ محسود  کی ہلاکت  کے بعد پھر سے ایک آل  پارٹیز کانفرنس  بلانے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ  پیدا ہونے والے تعطل  کا خاتمہ  ایک  مشترکہ حکمت عملی  سے کیا جائے لیکن   اس کوشش کو سبوتاژ  کردیا گیا۔