’’دو قومی نظریہ کے بارے میں ہر پاکستانی کو مکمل آگاہی ہونی چاہیے‘‘

لاہور (خبرنگار خصوصی) نظریۂ پاکستان یا دو قومی نظریہ کے بارے میں ہر پاکستانی کو مکمل طور پر آگہی ہونی چاہیے تاکہ وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکے اور غیر ملکی پراپیگنڈہ کا شکار نہ ہو۔ یہ پاکستان کی بہت بڑی خدمت ہوگی اور بطور شہری ہمارا فریضہ ادا ہوگا۔ یہ باتیں دارالعلوم جامعہ سیفیہ‘ گجر پورہ سکیم شیر شاہ روڈ جانی پورہ کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد عباس مجددی سیفی نے کیں۔ وہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے پاکستان آگہی پروگرام کے موبائل نظریاتی تعلیمی یونٹ نمبر 1 کے زیر اہتمام تقریب میں گفتگو کر رہے تھے۔ ادارے کے ایک معلم حافظ محمد عرفان القادری نے کہا کہ دو قومی نظریہ دراصل حق و باطل کی کشمکش کا نام ہے۔ معلم حافظ محمد سلیم نے کہا کہ ہمیں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کا شکر گزار ہونا چاہیے جس کی بدولت اس اہم قومی مسئلہ کے بارے میں لوگوں کو آگہی دی جا رہی ہے۔ پاکستان آگہی پروگرام کی جانب سے پروفیسر محمد سعید شیخ نے حاضرین کے سامنے دو قومی نظریہ کی غرض و غایت بیان کی۔ موبائل نظریاتی تعلیمی یونٹ نمبر 2 پروفیسر محمد حنیف شاہد کی قیادت میں آبرو ایجوکیشنل ویلفیئر آرگنائزیشن زینب ٹاور لنک روڈ ماڈل ٹائون گیا۔ تقریب کی صدارت ادارے کی نائب سربراہ مسز شمیم طاہر نے کی۔ انہوں نے نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سربراہ اور ممتاز صحافی مجید نظامی کو صدق دل سے مبارکباد پیش کی کہ وہ دل و جان سے اس مشن کو بڑے منظم اور فعال طریقے سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ موبائل نظریاتی تعلیمی یونٹ نمبر 3 پروفیسر عبدالسلام کی قیادت میں جامعہ مسجد مدنی برکات العلوم غوثیہ رضویہ مین بازار مکہ کالونی گلبرگ تھری گیا۔ تقریب کی صدارت ادارے کے سربراہ ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے کی۔ انہوں نے کہا اگر قائداعظم نہ ہوتے تو آج ہم ہندوستان میں دوسرے درجے کے شہریوں کی سی زندگی گزار رہے ہوتے۔