ڈگریوں کی تصدیق‘ سابق 189 ارکان کو 5 اپریل تک مہلت ۔۔ جعلی ڈگری والے پہلے دن سے ہی نااہل‘ مراعات واپس کرنا ہوں گی : چیف جسٹس

ڈگریوں کی تصدیق‘ سابق 189 ارکان کو 5 اپریل تک مہلت ۔۔ جعلی ڈگری والے پہلے دن سے ہی نااہل‘ مراعات واپس کرنا ہوں گی : چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت رپورٹ + اے پی اے + نیٹ نیوز) سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری کیس میں 189 سابق ارکان پارلیمنٹ کو 5 اپریل تک ڈگریوںکی تصدیق کرانے کی مہلت دی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ الیکشن کمشن امیدواروں کی بے رحمانہ سکروٹنی کرے۔ آئندہ تین دن تک تصدیق نہ کرانے والوں کیخلاف کارروائی ہو گی۔ عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمشن اور ریٹرننگ افسروں کو حکم دیا ہے کہ جب تک یہ ارکان تصدیق نہیں کراتے ان کے کاغذات نامزدگی منظور نہ کئے جائیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ جعلی ڈگری والے پہلے دن سے ہی الیکشن لڑنے کےلئے نااہل ہیں، انہیں حاصل کردہ تمام مراعات واپس کرنا ہوں گی۔ الیکشن کمشن جعلی ڈگری والوں کو نوٹیفکیشن کے ذریعے نااہل قرار دے سکتا تھا۔ جان بوجھ پر غلط بیانی کرنے پر فوجداری کی کارروائی بنتی ہے۔ جعلی ڈگری والوں کیخلاف فوجداری کارروائی میں 6 ماہ لگتے ہوں گے نااہل تو فوری طور پر قرار دیا جا سکتا ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان نے عدالت کو بتایا کہ ایچ ای سی نے 69 جعلی ڈگریوں سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کیا، 54 سابق ارکان اسمبلی کی تعلیمی اسناد سے متعلق ایچ ای سی نے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی ہدایت پر کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔ 7 مقدمات کی ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں سے تصدیق کر لی تھی۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہا کہ ہم نے پارلیمنٹرین کو خط لکھا تھا جس میں انہیں کہا گیا تھا کہ وہ اپنی ڈگریاں تصدیق کیلئے الیکشن کمشن میں جمع کرائیں۔ ڈگریاں جمع نہ کرانے والوں کی ڈگریاں جعلی تصور ہونگی جن پر الیکشن کمشن متعلقہ رکن کو باقاعدہ نوٹس دیکر کارروائی کریگا۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری الیکشن کمشن سے مخاطب ہو کر کہا آپ نے کہا تھا ارکان نے اسناد جمع نہ کرائیں توان کی ڈگریاں جعلی قرار دیں گے۔ آپ نے ان ارکان کے خلاف فوجداری مقدمات چلانے کا بھی کہا تھا۔ چیف جسٹس نے الیکشن کمشن سے مخاطب ہو کر کہا 54 ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریاں جعلی ہیں، 189 ارکان میٹرک اور انٹر کی اسناد پیش کرنے میں ناکام رہے، جان بوجھ کر غلط بیانی کرنے پر فوجداری کی کارروائی بنتی ہے۔ جعلی ڈگری والے پہلے دن سے ہی الیکشن لڑنے کے لئے نااہل ہیں۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے عدالت کو بتایا کہ جعلی ڈگری کی صورت میں کارروائی میں چھ ماہ لگتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فوجداری کارروائی میں چھ ماہ لگتے ہوں گے نااہل تو فوری طور پر قرار دیا جا سکتا ہے۔ جعلی ڈگری رکھنا اور غلط بیانی کرنا الگ باتیں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا چیئرمین ایچ ای سی کے مطابق 169 کیسز ایسے ہیں جن کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمشن نے عدالت کو بتایا کہ 2010ءسے ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں کی تصدیق کا سلسلہ چل رہا ہے، الیکشن کمشن نے 60 سے 70 فیصد ارکان کی ڈگری کی تصدیق کیلئے فوٹو کاپی بھجوائی، 189 ارکان پارلیمنٹ کی دستاویزات ابھی تک نامکمل ہیں۔ الیکشن کمشن کو کئی بار آگاہ کیا گیا کہ مکمل دستاویزات کے بغیر تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ الیکشن کمشن نے 54 ارکان کی جعلی ڈگریوں کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈگری کی شرط ختم ہونے کے بعد بھی غلط بیانی نہیں کی جا سکتی، ان پڑھ شخص انتخابات میں حصہ لینے کا اہل جبکہ غلط تعلیمی قابلیت بتانے والا نااہل ہے۔ عدلیہ سمیت ہر کوئی غیر جانبدار اور شفاف انتخابات چاہتا ہے۔ 10 ہزار کاغذات نامزدگی وصول ہوئے، جانچ پڑتال کیلئے صرف ایک ہفتہ رکھا گیا ہے۔ عدلیہ الیکشن کمشن کی مدد کیلئے ہمیشہ موجود ہے۔ اس عمل کے دوران ریٹرننگ افسرکو امیدوار کی غلط بیانی سے آگاہ کیا جائے۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہا کہ کاغذات نامزدگی ملتے ہی امیدوار کا نام اور شناختی کارڈ نمبر مل جاتا ہے۔ ڈھائی ہزار سے زائد امیدواروں کی معلومات ریٹرننگ افسروں کو بھیج دیں۔ سٹیٹ بنک، ایف بی آر سمیت متعلقہ اداروں سے آن لائن معلومات لی جاتی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ڈگری کی شرط ختم ہو گئی مگر غلط بیانی کرنیوالا آرٹیکل 62 کے تحت نااہل ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہا کہ کاغذات نامزدگی سکین کر کے ویب سائٹ پر بھی ڈال رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا ووٹرز کو امیدوارں کے کاغذات نامزدگی آن لائن دستیاب ہیں؟ سیکرٹری الیکشن کمشن نے جواب دیا کہ کاغذات نامزدگی ووٹرز کو فراہم کرنے کیلئے ریٹرننگ افسروں کو ہدایت کر دی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمشن کو اختیار ہے کہ وہ غلط بیانی کرنیوالے کو نااہل قرار دے، غلط بیانی کرنیوالا یہ نہیں کہہ سکتا کہ مقدمہ زیر التوا ہے، نوٹیفکیشن منسوخ نہ کیا جائے۔ غلط بیانی پر ایک مرتبہ کی نااہلیت ہمیشہ کیلئے کیلئے نااہلی ہے۔ جعلی ڈگری والوں کی نہیں، عوام کی حقیقی نمائندگی چاہئے۔ ارکان پارلیمنٹ اس ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ امیدواروں کی بے رحم سکروٹنی ضروری ہے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ امیدوار کاغذات نامزدگی میں درست معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ کاغذات نامزدگی میں غلط معلومات فراہم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہی معلومات کی بنیاد پر حلقے کے لوگ اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے 27 مقدمات بند کرنے کی تفصیلات جمع کرائیں۔ عدالت میں چودھری نثار کے وکیل اکرم شیخ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ عدالت نے چودھری نثار کی اصل تعلیمی اسناد ایچ ای سی سے تصدیق کرانے کی ہدایت کی۔ بی بی سی کے مطابق اکرم شیخ نے بتایا کہ ان کے م¶کل نے اپنی اسناد تصدیق کے لئے ایچ ای سی کو بھیجی تھیں مگر ابھی تک وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے کا فیصلہ عدالت میں نہیں ہو گا بلکہ متعلقہ ادارے ہی اس بارے میں فیصلہ دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمشن کی طرف سے الیکشن کمشن کو 13 فروری کے لکھے گئے خط پر عملدرآمد ہو گا جس میں کہا گیا تھا کہ پندرہ روز کے اندر اندر اپنی تعلیمی اسناد کی تصدیق نہ کرانے والے ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریاں جعلی تصور ہوں گی۔ عدالتوں نے متعلقہ شہروں کے پولیس افسروں سے کہا ہے کہ جعلی ڈگریوں سے متعلقہ زیر تفتیش مقدمات کو فوری نمٹانے کے لئے بعد رپورٹ الیکشن کمشن کو دیں۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے تمام ضلعی عدالتوں کو جعلی ڈگریوں سے متعلق مقدمات کو 4 اپریل تک نمٹانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان سے کہا کہ وہ ان 27 ارکان کے مقدمات کا ازسرنو جائزہ لیں جنہیں الیکشن کمشن نے نمٹا دیا تھا۔ سیکرٹری الیکشن کمشن کے مطابق اس وقت 34 مقدمات مختلف ضلعی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ 13 ارکان کے خلاف سیشن کورٹ میں مقدمات زیر سماعت ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ عزت سے منتخب ہو کر ایوان میں جائیں۔ بعذازاں عدالت کی جانب سے جاری عبوری حکم میں کہا گیا کہ جعلی ڈگری کا معاملہ ایچ ای سی کے خط کے باعث دوبارہ اٹھانا پڑا، خط کے مطابق چون ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریاں جعلی ہیں، جبکہ ایک سو نواسی ارکان کی ڈگریوں کی تصدیق ابھی باقی ہے۔ عدالت نے ایک سو نواسی ارکان کو پانچ اپریل تک ایج ای سی سے ڈگریوں کی تصدیق کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ے ارکان جنہوں نے 2008ءکے الیکشن میں کاغذات نامزدگی میں ڈگری سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا وہ اسی وقت سے ہمیشہ کے لئے نااہل ہیں، ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کے تحت فوجداری مقدمہ بنتا ہے۔ موجودہ انتخابات میں ڈگری کی شرط کا خاتمہ جھوٹے اقرار نامے کا جرم ختم نہیں کر سکتا۔ غلط بیانی کرنے والا آرٹیکل 62 کی زد میں آتا ہے، اسے نشست پر رہنے کا حق نہیں، ایسے ارکان کے خلاف کارروائی کرنا الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے، عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی اور دستاویزات عام آدمی کی دسترس میں دی جائیں۔ سابق قائد حزب اختلاف چودھری نثار کے وکیل شیخ اکرم کی جانب سے علیحدہ سے درخواست کیس کا حصہ بنانے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔ عدالت نے اسناد ایچ ای سی اور الیکشن کمشن میں جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم انفرادی کیس نہیں لے سکتے، کیس کی مزید سماعت 8 اپریل کو ہو گی۔ اسلام آباد (نامہ نگار + نوائے و قت رپورٹ) سپریم کورٹ کی جانب سے ڈگریوں کی تصدیق کے احکامات پر عملدرآمد کرنے کے لئے ہائر ایجوکیشن کمشن کا ہیڈ آفس اور علاقائی دفاتر (کوئٹہ، کراچی، لاہور، پشاور) پانچ اپریل کی درمیانی شب تک کھلے رہیں گے۔ ہائر ایجوکیشن کمشن نے تمام سابق پارلیمنٹیرین (ایم این ایز، سینیٹروں، ایم پی ایز) جنہوں نے تاحال ڈگریوں کی تصدیق نہیں کرائی ان سے کہا ہے کہ وہ اپنی دستاویزات 5 اپریل تک فراہم کر دیں، پارلیمنٹیرین کو اصل ڈگری، اصل میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ کی نقل فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تمام جامعات کے کنٹرولر امتحانات کے شعبوں کو رات گئے تک دفاتر کھلے رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ چیئرمین ایچ ای سی جاوید لغاری نے کہا ہے کہ سابق پارلیمنٹیرینز اور الیکشن کمشن ایچ ای سی سے ڈگریوں کے سلسلے میں تعاون کریں گے۔ ان کو چاہئے اپنی ڈگریوں کی تصدیق کرائیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈگری کی تصدیق صرف ہائر ایجوکیشن کمشن کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ ہمارے تمام دفاتر رات 12 بجے تک کھلیں رہیں گے۔ سپریم کورٹ جعلی ڈگری ہولڈرز کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 62‘ 63 کے تحت دیکھ رہی ہے۔ تصدیق کا عمل 2010ءسے جاری ہے۔ عدالت نے ہمیں 5 اپریل تک ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں کی دوبارہ تصدیق کیلئے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ جعلی ڈگریوں کی تصدیق کا اختیار صرف ایچ ای سی کے پاس ہے۔ کوئی کام جلدی میں نہیں کیا جائے گا۔ پہلے نوٹس دیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پر دباﺅ کتنا تھا اس کا وہ جواب نہیں دیں گے۔ ارکان پارلیمنٹ میٹرک‘ انٹر یا بیرونی یونیورسٹی کی کوئی ڈگری رکھتے ہیں تو اس کی 5 اپریل تک جانچ پڑتال اور تصدیق کرا لیں۔چودھری نثار کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ کسی انفرادی شخص کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیں گے۔