دوہری شہریت : سپریم کورٹ کا 11 سابق ارکان پارلیمنٹ کو حاضری‘ جواب کیلئے دوبارہ نوٹس

دوہری شہریت : سپریم کورٹ کا 11 سابق ارکان پارلیمنٹ کو حاضری‘ جواب کیلئے دوبارہ نوٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت نیوز) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ میں 20 سابق ارکان اسمبلی کے خلاف دوہری شہریت کے متعلق مقدمے کی سماعت، عدالت نے دوہری شہریت پر مستعفی ہونے والے 11 ارکان اسمبلی کو حاضری اور جواب کے لئے دوبارہ نوٹس جاری کر دئیے، 9 سابق ارکان اسمبلی نے عدالت کے سامنے دوہری شہریت کا اعتراف کیا اور 4 سابق ارکان اسمبلی نے دوہری شہریت ترک کا بیان جمع کرا دیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس ملک میں ر ہیں گے تو اس آئین کے تحت رہیں گے، ہمیں اپنا آئین عزیز ہے ہر پاسپورٹ کی شرائط پر عمل درآمد کرنا پڑتا ہے۔ امریکی پاسپورٹ کی شرائط ہوتی ہیں کہ اگر امریکہ کے لئے جنگ بھی لڑنا پڑی تو وہ لڑنی پڑے گی، عدالت میں دونیا عزیز، ڈاکٹر اریش کمار، عارف عزیز شیخ، جمیل اشرف، انجینئر جاوید اقبال ترکئی، مراد علی شاہ، صادق علی میمن اور سبین رضوی پیش ہوئے۔ عارف عزیز شیخ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے م¶کل آسٹریلیا میں پیدا ہوئے، 2012ءمیں اپنی پوزیشن کر دی تھی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ عارف عزیز شیخ نے آسٹریلیا کا پاسپورٹ واپس کر دیا ہے۔ ایک اور سابق رکن اسمبلی جمیل اشرف نے بتایا کہ 13 فروری 2013ءکو امریکی شہریت ترک کر دی ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ 2008ءکے کاغذات نامزدگی کے وقت اس بات کا اعتراف کیوں نہ کیا کہ آپ دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ جمیل اشرف کا کہنا تھا انہوں نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو جاری کیا جانے والا کارڈ منسلک کیا تھا جس میں دوہری شہریت کا ذکر تھا۔ سابق رکن اسمبلی دونیا عزیز کے وکیل وسیم سجاد نے بتایا کہ دونیا امریکہ میں پیدا ہوئی تھی اس لئے وہاں کی شہریت ملی۔ ڈاکٹر اریش کمار بھی پیش ہوئے اور کہا کہ وکیل کرنے کی مہلت دی جائے۔ عدالتی استفسار پر انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس کینیڈا کی شہریت ہے، انہوں نے کوئی غلط بیانی کی نہ ہی جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس ملک میں رہیں گے تو اس آئین کے تحت رہیں گے، ہمیں اپنا آئین عزیز ہے۔ سبین رضوی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس برطانوی شہریت اس وجہ سے ہے کہ ان کے تین بچے وہاں پیدا ہوئے اس لئے رہائش ملی۔ انہوں نے بھی عدالت سے وکیل کرنے کے لئے مہلت طلب کی۔ انجینئر جاوید اقبال ترکئی نے اپنی کینیڈین شہریت کا اعتراف کیا اور کہا کہ ان کا کیس صوابی کے سیشن جج کے پاس زیر سماعت ہے۔ سابق ارکان اسمبلی مراد علی شاہ اور صادق علی میمن نے بتایا کہ ان کے پاس کینیڈین شہریت تھی جو انہوں نے ترک کر دی ہے۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت 9 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے پیش نہ ہونے والے سابق ارکان طیب حسین، ندیم احسان، حیدر عباس رضوی، فوزیہ اعجاز، ڈاکٹر عاصم، عسکری تقوی، رضا ہارون، فوزیہ اصغر، معیت صدیقی، محمود علی شاہ اور طاہر علی جاوید کو دوبارہ نوٹس جاری کر دئیے۔ واضح رہے دوہری شہریت پر مستعفی ہونے والے ایک رکن محمد علی شامل انتقال کر چکے ہیں۔ عدالت نے نااہل افراد کی فہرست سے دوہری شہریت رکھنے والے ارکان کے نام نکالنے سے انکار کرتے ہوئے درخواست گذاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔ متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے دوہری شہریت کے حامل ارکان عدالت میں موجود تھے نہ ہی ان کی طرف سے کوئی وکیل پیش ہوا۔ درخواست گذار محمود اختر نقوی نے آئین عدالت کو دکھاتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62‘ 63 کے تحت دوہری شہریت کے حامل افراد الیکشن لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔ عدالت نے گیارہ سابق ارکان پارلیمنٹ جن میں حیدر عباس رضوی‘ طیب حسین‘ فوزیہ اعجاز‘ ندیم احسان‘ عسکری تقوی‘ رضا ہارون‘ فوزیہ اصغر‘ سحر علی جاوید‘ ڈاکٹر عاصم‘ محمود علی شاہ اور عبدالمعید صدیقی کو دوبارہ سے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 9 اپریل تک ملتوی کر دی۔