آرٹیکل 63-62 پر عملدرآمد کا طریقہ کیا ہوگا ‘ الیکشن کمشن سے آج وضاحت طلب

آرٹیکل 63-62 پر عملدرآمد کا طریقہ کیا ہوگا ‘ الیکشن کمشن سے آج وضاحت طلب

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے عام انتخابات میں دستور کے آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد کےلئے اختیار کردہ طریقہ کار کے بارے میں آج الیکشن کمشن آف پاکستان سے وضاحت طلب کر لی۔ فاضل عدالت نے یہ وضاحت انتخابات میں آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کےلئے دائر رٹ درخواست میں طلب کی۔ گذشتہ روز جسٹس سید منصور علی شاہ نے سماعت شروع کی تو درخواست گذار نے اپنے دلائل میں کہا یہ آئینی درخواست بہت اہم ہے اِس کا مقصد عام انتخابات میں آرٹیکل 218(3) اور آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد کو یقینی کرنا ہے۔ اِس پر عدالت نے درخواست گذار سے استفسار کیا کیا آپ الیکشن ملتوی کرانا چاہتے ہیں؟ درخواست گذار نے عدالت کو بتایا آئینی درخواست کا مقصد الیکشن ملتوی کرانا ہر گز نہیں بلکہ الیکشن کو مقررہ وقت پر کرانے کے لئے آئینی درخواست دائر کی گئی ہے اور اِس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے آنے والی اسمبلیوں میں ایماندار، دیانتدار اور امین لوگ ملک کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔ عدالت نے دریافت کیا اس آئینی درخواست میں آپ چاہتے کیا ہیں؟ درخواست گذار نے بتایا اِس آئینی درخواست کے دو پہلو ہیں سب سے پہلی بات یہ کہ آرٹیکل 218 کے تحت الیکشن کمشن ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ہے اور الیکشن کرانے کے لئے کوئی قانون بنانے کی ضرورت نہیں عوامی نمائندگان ایکٹ 1976ءکی کئی دفعات آئین سے متصادم ہیں۔ 18ویں اور 20ویں ترمیم کے بعد عوامی نمائندگان ایکٹ میں ترامیم نہیں کی گئیں۔ انتخابات کےلئے ریٹرننگ آفیسر کی حثیت چونکہ جوڈیشل آفیسر کی نہیں اس لئے وہ آئین کی تشریح کیسے کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا آئین کے مختلف آرٹیکلز میں نااہلی پر سزا پانچ سال تک لاگو رہے گی مگر عوامی نمائندگان ایکٹ 1976ءکے تحت یہ نااہلی آج بھی عمر بھر کے لئے ہے۔ اِس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کوئی قانون آئین سے متصادم ہو تو آئین پر عملدرآمد ہو گا۔ درخواست گذار نے عدالت کو مزید بتایا عوامی نمائندگان ایکٹ میں پارلیمنٹ نے جان بوجھ کر ترامیم نہیں کیں جبکہ یہ ترامیم جنوری میں بھیجی گئی تھیں جانےوالی حکومت ایمانداری سے کام کرتی تو یہ ترامیم دو دن میں منظور ہو سکتی تھیں۔ دوسرا آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد کرنے کے لیے الیکشن کمشن نے ریٹرننگ آفیسرز کو احکامات یا ہدایات جاری نہیں کیں۔ ریٹرننگ آفیسر چونکہ ایک جوڈیشل آفیسر کی حیثیت سے کام نہیں کر رہا لہٰذا اُس کے پاس ان آرٹیکلز پر کاغذات کی مکمل جانچ پڑتال کا کوئی طریقہ ِ کار نہیں ہو گا۔ اس بارے اعتراض کنندہ کو پتہ ہے نہ ہی یہ عوام کے علم میں ہے۔ عدالت نے جب اس بارے میں سٹینڈنگ کونسل سے وضاحت طلب کی تو اس پر انہوں نے عدالت کو بتایا آرٹیکل 62 اور 63 پر ضرور عمل ہو گا۔ عدالت نے قرار دیا وہ کیا طریقہِ کار ہو گا اس بارے عدالت کو آئندہ سماعت پر بتایا جائے ۔ درخواست گذار نے مزید بتایا الیکشن کمشن نے عوامی نمائندگان ایکٹ میں نے ترامیم پارلیمنٹ کو بھجوائیں، ان ترامیم میں 86 سی کے ذریعے کسی سرکاری آفیسر کو ٹرانسفر کرنے کا اختیار الیکشن کمشن کو دیا جانا تھا مگر یہ ترامیم کاغذ کی ردی کی ٹوکری میں پھینک دی گئیں اب یہ ترامیم ہو نہیں سکتیں کیونکہ آرٹیکل 219 کے تحت قانون بنانے یا ترامیم کرنے کا اختیارصرف پارلیمنٹ کے پاس ہے اور یہ آرڈیننس کے ذریعے نہیں ہو سکتی۔ الیکشن کمشن ابھی تک تبادلوں کے حوالے سے اپنے احکامات پر عملدرآمد نہیں کرا سکا حالانکہ 22 جنوری 2013ءکو الیکشن کمشن نے نوٹیفکیشن کے ذریعے تبادلوں، تقرریوں، ترقیوں اور خزانے کے بے دریغ استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کیا وہ نوٹیفکیشن عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے؟ اِس پر درخواست گذار نے عدالت سے اجازت چاہی کہ کل وہ تمام نوٹیفکیشنز کو ریکارڈ کا حصہ بنائیں گے۔ عدالت نے اجازت دےتے ہوئے سماعت آج 2 اپریل کے لئے ملتوی کر دی۔دریں اثناءدرخواست گزار نے متفرق درخواست کے ذریعے عدالت سے استدعا کی الیکشن کمشن کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے باوجود تقرر و تبادلوں اور خزانے کے ذریعے پیسوں کی تقسیم پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اِس متفرق درخواست کی سماعت بھی آج 2 اپریل کو جسٹس سید منصور علی شاہ کریں گے۔