کالا باغ ڈیم تعمیر کرنا چاہتے ہیں ‘ اتفاق رائے پیدا کیا جا رہا ہے: وفاقی حکومت‘ بری یادیں وابستہ ہیں تو نام بد لیں: ہائیکورٹ

کالا باغ ڈیم تعمیر کرنا چاہتے ہیں ‘ اتفاق رائے پیدا کیا جا رہا ہے: وفاقی حکومت‘ بری یادیں وابستہ ہیں تو نام بد لیں: ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی + نوائے وقت نیوز) لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ملکی صنعتیں چلانے کے لئے انڈسٹری مالکان سے زیادہ پیسے لے لئے جائیں مگر صنعتوں کو بلاتعطل بجلی تو فراہم کی جائے۔ فاضل عدالت نے یہ ریمارکس بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے دئیے۔ گذشتہ روز دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل خواجہ احمد طارق رحیم عدالت کے روبرو پیش ہوئے انہوں نے عدالت میں اپنا جواب داخل کیا جس میں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کالا باغ ڈیم تعمیر کرنا چاہتی ہے اور اس حوالے سے اتفاق رائے پیدا کیا جا رہا ہے بجلی کی کمی پوری کرنے کے لئے کے ای ایس سے 3 سو میگا واٹ بجلی لے کر قومی گرڈ میں شامل کر دی گئی ہے، عدالتی حکم پر کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لئے سمارٹ میٹر لگانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ جو صارفین لوڈ شیڈنگ نہیں چاہتے ان کےلئے علیحدہ ٹیرف مقرر کیا جا سکتا ہے۔ درخواست گذار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اگر کالا باغ ڈیم جلد تعمیر کر لیا جائے تو بجلی کی کمی کو دور کیا جا سکتا ہے، اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے کالا باغ ڈیم کا نام تبدیل کر کے پاکستان ڈیم رکھ دیا جائے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 21 ملین صارفین بجلی استعمال کرتے ہے جس میں سے 4 ملین صارفین ڈھائی سو بجلی کے یونٹ استعمال کرتے ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے نام سے بری یادیں وابستہ ہیں تو اس کا نام تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں، کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے کوئی مسئلہ ہے تو اس کا نام تبدیل کر دیا جائے۔ فاضل عدالت نے کیس پر مزید کارروائی 17 دسمبر تک کے لئے ملتوی کرتے ہوئے نیشنل پاور کنٹرول سنڑ کے سربراہ اور لوڈ مینجمنٹ پلان طلب کر لیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ تھوڑی سی انتظامی تبدیلیاں کر کے یہ ڈیم بنایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر سمارٹ میٹر لگانے کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال نے قرار دیا کہ عدالت پانی اور بجلی کا مسئلہ حل کرنے کےلئے آئےنی اداروں سے اپنی ذمہ دارےاں پوری کرنے کی امید کرتی ہے۔ خواجہ احمد طارق رحیم نے عدالت کو بتایا کہ ا س وقت ملک میں21ملین بجلی کے کنزیومر ہیں اس میں2ملین ایسے ہیں جو 100 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ 2ملین ایسے ہیں جو 250یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ عدالت نے سنگل فیز میٹر لگانے کےلئے کہا تھا اس کے لیے سمارٹ میٹر لگائے جاسکتے ہیں جو300یونٹ سے کم کنزیومر کو بلا تعطل بجلی فراہم کریں گے مگر اس کے لیے بہت خرچ چاہیے حکومت کو 11روپے75پیسے فی یونٹ بجلی کی لاگت آتی ہے عوام کو اوسطاً 8روپے 78پیسے یونٹ پر بجلی سپلائی کی جاتی ہے اس طرح 250بلین روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ درخواست گذار محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ بھارت میں زراعت کےلئے بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں ایک طرف تو نہری پانی نہیں مل رہا دوسری طرف لوڈ شیڈنگ سے ٹیوب ویل نہیں چل رہے۔ چیف جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ زراعت ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کیا ٹیوب ویلوں کو لوڈ شیڈنگ سے مستشنیٰ قرار دے دیا جائے؟ اس پر خواجہ احمد طارق رحیم نے کہا کہ اس کے لیے علیحدہ فیڈر لگانے پڑیں گے وہ ممکن نہیں۔ خواجہ احمد طارق رحیم نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے بہترین فیصلہ دیا ہے اس پر عملدرآمد ہوسکتا ہے۔ صدر فاروق لغاری کے دور میں بھی ہم لوگوں نے تکنےکی رپورٹیں تیار کی تھیں مگر کالا باغ ڈیم نہ بن سکا ۔فاضل چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کا نام بدل دیا جائے یا وفاقی حکومت اس ڈیم کا انتظام خود سنبھال لے اور پانی کی تقسیم اور دیگر معاملات اپنے کنٹرول میں لے لی۔ خواجہ احمد طارق رحیم نے عدالت کو بتایاکہ کی ای ایس سی کو نےشنل گرڈ سے دی جانے والی 650میگاواٹ میں سے مشترکہ مفادات کونسل کی وجہ سے 300میگا واٹ نیشنل گرڈ میں آچکی ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں لوڈشےڈنگ اب کم ہورہی ہے ہمیں پانی سے بجلی پیدا کرنے کےلئے منصوبے زیادہ بنانے چاہئیں۔ چیف جسٹس عمر عطاءبندیال نے اسستفسار کیا کہ جو لوگ بجلی مہنگی خریدنا چاہیں ان کو لوڈ شیڈنگ سے استشنیٰ قرار دیا جاسکتا ہے مثلا فیسکو، لیسکو یا گیپکو جہاں ریکوریز100%ہیں جو صارفین بلا تعطل بجلی لینا چاہیں انہیں مہنگی بجلی دیں۔ خواجہ احمد طارق رحیم نے کہا کہ اگلی تاریخ پر مزید رپورٹیں پیش کی جائیں گی۔ فاضل عدالت نیشنل پاور کنٹرول سنٹرکے جنرل منیجر کو بلائے جو عدالت کو بتاسکے گاکہ چھوٹے صارفین جو گھر یا دفتر میں 350سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں ان کو کس طرح بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے۔