عدلیہ سیاسی فیصلوں سے اجتناب کرے ‘ کالا باغ ڈیم کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی : قمر کائرہ

عدلیہ سیاسی فیصلوں سے اجتناب کرے ‘ کالا باغ ڈیم کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی : قمر کائرہ

اسلام آباد (اے پی اے) وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے قائد عوام بھٹو کے عدالتی قتل کے باوجود بھی عدلیہ کا احترام کیا، محترمہ شہید پر ہونے والے مظالم کے باوجود عدلیہ کا ساتھ دیا، عدلیہ پارلیمانی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے اور سیاسی فیصلوں سے اجتناب کرے۔ پارلیمنٹ نے فیصلہ کرنا ہے کہ کالاباغ ڈیم بنے گا یا نہیں۔ یہ کام عدلیہ کا نہیں کیونکہ اگر پاکستان کو مستحکم کرنا ہے تو ایسے فیصلوں سے گریز کرنا ہو گا جس سے اداروں کے تصادم کا خطرہ ہو۔ وہ لوگ ہم پر تنقید کرتے ہیں جو آمریت کی پیداوار ہیں، مکہ مکرمہ جیسی مقدس جگہ پر بیٹھ کر جھوٹ بولتے ہیں کہ انہوں نے معاہدے نہیں کئے، صدر کے خلاف بات کرنے والے بھول گئے کہ ان کے دور میں ایوان صدر سازشوں کا گڑھ ہوتا تھا، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی موجودگی میں کوئی احمق ہی انتخابات میں تاخیر کا سوچ سکتا ہے جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی انتخابات ملتوی کرانا چاہتی ہے وہ یہ جان لیں کہ پیپلزپارٹی عوام میں آج بھی مقبول ترین جماعت ہے اور ہم عوام میں جانے سے نہیں گھبراتے، جب میمو سکینڈل آیا تو مخالفین نے کہاکہ لو جی ہن زرداری گیا، مگر زرداری آج بھی موجود ہے اور صدر پاکستان ہے اور آئندہ بھی صدر رہیگا۔ ہمارے خلاف ججز کو غصہ آئے تو وہ ہمارے خلاف فیصلہ دے دیتے ہیں ماضی میں جرنیلوں کو آتا تھا تو وہ مارشل لاءلگا دیتے تھے۔ صدر زرداری واحد صدر ہیں جس نے اپنے اختیارات میں واضح کمی کی اور صوبوں کو اختیارات دئیے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ میں تو اتنا حوصلہ نہیں کہ وہ اپنے اختیارات کسی اور کو منتقل کر سکیں، شہبازشریف نے 18وزارتیں اپنے پاس رکھی ہیں جو کتنے شرم کی بات ہے۔ یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قمر کائرہ نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے جمہوریت کی بقاءاور آئین کے نفاذ کے لئے گردنیں کٹا دیں۔ آج مخالفین تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ آپ نے ملک کو کیا دیا۔ ہمارے مخالفین نے سیاست کی بجائے ایجنسیوں اور آمروں کی خوشنودی حاصل کرکے ملک و قوم کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ ہم اداروں کا تصادم نہیں چاہتے۔ تمام ادارے اپنی حدود میں رہیں گے تبھی جاکر ہم اس ملک کو عظیم سے عظیم تر بنا سکیں گے۔ ایوان صدر میں کوئی جج اور جرنیل نہیں بلکہ سیاسی صدر ہے کہا جاتا ہے کہ سیاسی لوگ جلسے نہیں کر سکتے جبکہ چیف جسٹس وکلا کے جلسے کریں اور ان کی اخبارات میں ہیڈ لائنز بھی لگیں ایسا کیوں ہے جبکہ منظور وٹو نے لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب پراکسی انتخاب نہیں ہوگا۔
لاہور + حافظ آباد (نامہ نگاران + نمائندہ نوائے وقت) پیپلز پارٹی کا 45 واں یوم تاسیس ملک بھر میں جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا۔ ملک بھر میں تقاریب ہوئیں اور کیک کاٹے گئے۔ تقریبات میں ذوالفقار علی بھٹو، شہید بینظیر بھٹو اور دیگر کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ حافظ آباد یوم تاسیس کی تقریب سٹی صدر ذوالفقار چاند بھون کی زیر صدارت سادگی سے منعقد ہوئی جس میں پی ایم صفدر کھرل ایڈووکیٹ و دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو جیسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے غریب عوام کی جس انداز میں ترجمانی کی، پاکستانی عوام اسے کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ فیصل آباد، ملتان، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بھی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔