تمام طالبان قیدی ہمارے حوالے کئے جائیں‘ پاکستان پر حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے: افغان وزیر خارجہ

تمام طالبان قیدی ہمارے حوالے کئے جائیں‘ پاکستان پر حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے: افغان وزیر خارجہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ) پاکستان اور افغانستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو وسط ایشیا تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں تاجکستان کو اس معاہدہ میں شامل کیا جائے گا۔ بعد ازاں دیگر وسط ایشیائی ریاستیں اس معاہدہ کا حصہ بنائی جائیں گی۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنے افغان ہم منصب زلمے رسول کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا۔ اس موقع پر زلمے رسول نے پاکستان کیلئے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔ پاکستانیوں کیلئے بھایﺅں اور بہن کے الفاظ استعمال کئے اور پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف نہیں استعمال ہونے دیا جائے گا۔ پاکستان میں حملہ کرنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اپنے وفود کے ساتھ مذاکرات کئے، ان کے درمیان الگ سے ملاقات بھی ہوئی۔ بات چیت کے دوران دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلو، بالخصوص تجارتی و معاشی تعاون، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، سلامتی کی صورتحال، افغانستان میں امن و قومی مفاہمت کی کوششیں، افغانستان میں پاکستان کے شروع کردہ ترقیاتی منصوبے اور قیدیوں کے امور زیر غور آئے۔ زلمے رسول کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت و معیشت کو مزید فروغ دینے کے بہت امکانات موجود ہیں۔ دونوں ملکوں نے طے کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران تاجکستان اور اس کے بعد دیگر وسط ایشیائی ریاستوں کو بھی اس معاہدے میں شامل کر لیا جائے۔ افغانستان کی گزرگاہ استعمال کرنے سے دونوں ملکوں اور وسط ایشیائی ریاستوں سب کو بہت فائدہ ہو گا۔ دوطرفہ تعاون کے تمام تر امکانات پر بات چیت کی گئی۔ افغانستان میں پاکستان کے شروع کردہ تین سو ملین ڈالر کے منصوبے جاری ہیں۔ سات ہزار افغان طلبہ کو پاکستان کے سکالر شپ دئے گئے ہیں۔ افغانوں کی زیر سرکردگی، پاکستان، افغانستان میں قومی مفاہمت کے عمل کی بھرپور حمائت کرتے ہیں۔ ایک بار پھر ہم تاریخی مغالطہ دور کر کے یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا کردار سہولت کار سے زیادہ کا نہیں۔ افغانستان کے اندر ہمارا کوئی پسندیدہ گروپ نہیں نہ ہی ہم افغانستان کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اس عمل کی حمائت کرے گا جو افغان چاہیں گے۔ کابل میں علما کانفرنس کی بھرپور حمائت کرتے ہیں۔ زلمے رسول کا دورہ پاکستان دونوں ملکوں کے تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہے، ہم نے دونوں ملکوں کے درمیان سٹرٹیجک شراکت کے مسودہ پر غور کیا۔ اس شراکت سے دونوں ملکوں کو بہت فائدہ ہو گا اور دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ شراکت کیلئے ادارہ جاتی بندوبست درکار ہو گا۔ مذاکرات کے دوران قیدیوں کے امور، انسداد منشیات و انسداد دھشت گردی پر بھی بات ہوئی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ یہ برائیاں دونوں ملکوں کیلئے مشترکہ چیلنج ہیں۔ دونوں ملک ان کے انسداد کیلئے مل کر کام کریں گے۔ پاکستان جنوری میں کابل میں منعقد ہونے والی علما کانفرنس مین شرکت کرے گا۔ افغان وزیر خارجہ زلمے رسول نے کہا کہ انہوں نے بہت سازگار ماحول میں نہائت مفید مذاکرات کئے ہیں۔پاکستان کے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یہ رشتہ اور رابطہ استوار رہے گا۔ یہ دورہ ہی اس امر کا غماز ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارہ کا رشتہ ہے۔ بات چیت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ افغانستان کے بعض علاقوں سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کی روک تھام کیلئے افغان حکومت بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔کنڑ اور نورستان کے صوبوں میں امن قائم رکھنا بہت مشکل ثابت ہو رہا ہے ۔ دونوں ملکوں کو مشترکہ چیلنج درپیش ہیں۔ ہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان پایئدار شراکت کے خواہاں ہیں۔ ہم مضبوط افغانستان ا ور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں۔ باہمی تعاون کے نتائج برآمد ہونے چاہئیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ برابری، عزت اور خودمختاری کی بنیاد پر اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات کے متمنی ہیں۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج 2014ءمیں واپس جا رہی ہیں۔ سلامتی کی ذمہ داریاں اب افغان فوج کو سونپی جا رہی ہیں اور مذاکرات کے دوران اس معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ افغانستان میں امن و مفاہمت افغانوں کی اولین ترجیح ہے۔ ملک میں بہت خون خرابہ ہو چکا ہے۔ مفاہمت پر سیاسی گروپوں کا اتفاق ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں افغان حکومت کی طالبان سے بھی بات ہو سکتی ہے۔ افغانستان میں امن سے پورے خطہ اور پاکستان میں بھی امن ہو گا۔ پاکستان نے قیام امن کیلئے بہت مثبت کردار ادا کیا ہے۔ وزرائے خارجہ مذاکرات میں افغانستان نے ملا عبدالغنی برادر سمیت تمام طالبان قیدیوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پاکستان نے افغان حکومت سے طالبان قیدیوں کی رہائی کے لئے فہرست مانگی ہے‘ دونوں ملکوں نے سٹرٹیجک شراکت داری کے معاہدے کا مسودہ تیار کر لیا ہے‘ جنوری میں افغانستان میں بین الاقوامی علماءکانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پاکستان نے اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے‘ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ حنا ربانی کھر اور زلمے رسول کے درمیان مذاکرات میں باہمی دلچسپی کے امور ‘ دوطرفہ تعلقات‘ پاکستان افغانستان سرحدی صورتحال اور سٹرٹیجک شراکت داری سمیت پاکستان میں قید طالبان کی رہائی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغان وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ ملا عبدالغنی برادر سمیت گرفتار طالبان کو افغانستان کے حوالے کیا جائے۔ زلمے رسول کا م¶قف تھا کہ افغان امن عمل کی کامیابی کے لئے ان طالبان کی حوالگی ناگزیر ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ مذاکرات کے عمل میں شرکت میں جن طالبان کی رہائی ضروری ہے ان کے بارے میں افغان حکومت فہرست فراہم کرے اس پر غور کیا جائے گا۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں حنا ربانی کھر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے چھ ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں اور 35 ہزار سے زائد عام شہریوں کی قربانیاں دیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی برادری کو ہماری قربانیوں کا ادراک کرنا چاہئے۔ پاکستان پر بلاوجہ الزامات نہ لگائیںجائیں۔ ہم افغانستان میں مسائل نہیں بلکہ ان کے حل کے شراکت دار ہیں۔ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ پاکستان نے نہیں وہاں کی عوام نے کرنا ہے۔ پاکستان افغانستان میں افغانوں کی شراکت داری اور ان کی قیادت میں ہونے والے مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا ہے۔ ہم افغانستان کوکنٹرول کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے۔ افغان حکومت کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ زلمے رسول کے دورے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک نئے سفر کا آغاز ہو گا۔ افغان قیدیوںکی رہائی پر بات ہوئی ہے۔ مفاہمتی عمل کو کامیابی بنانے کے لئے طالبان کو محفوظ راستے کی فراہمی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں ملکوں نے مشترکہ کمیشن کو فعال کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ دہشت گردی اور منشیات مشترکہ چیلنجز ہیں، دونوں ملک دہشت گردی کا شکار ہیں اس مشترکہ دشمن کو مل کر ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دے کر باہمی تجارت کو 2.5 ارب ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتا ہے۔ زلمے رسول نے کہا کہ پاکستان سے مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ حنا کھر سے افغان امن عمل پر بات چیت ہوئی، ہم چاہتے ہیں کہ تمام طالبان قیدیوں کو افغانستان کے حوالے کیا جائے۔ امن عمل کیلئے مذاکرات کا تسلسل ضروری ہے، ہم بیرون ملک مقیم طالبان وطن واپس آکر امن عمل کا حصہ بنیں۔ دہشت گرد پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ دشمن ہیں۔ حنا ربانی کھر کے ساتھ افغان پناہ گزینوں کی پاکستان سے واپسی سے متعلق بھی بات چیت ہوئی۔ علاوہ ازیں پاکستان، افغانستان سرحدی علاقے میں بمباری کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔ این این آئی کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے دونوں ممالک کو درپیش چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف مل کر اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان اور افغانستان نے مزید طالبان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے، افغان وزیر خارجہ زلمے رسول کے دورہ پاکستان کی تکمیل پر دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے طے کیا ہے کہ دونوں اطراف کے علما کی کانفرنس جنوری کے اواخر میں کابل میں منعقد کی جائے، مزید طالبان قیدیوں کو رہا کیا جائے، رابطوں میں سہولت پیدا کی جائے، طالبان کی القاعدہ سے تعلقات منقطع کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے، دونوں ملکوں نے قیدیوں کے مسئلہ پر کمشن کو فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ یہ بھی طے پایا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو وسط ایشیائی ریاستوں تک توسیع دینے کے معاملے پر دونوں ملک توجہ دیں گے۔ پہلے مرحلہ میں تاجکستان، افغانستان اور پاکستان کے اجلاس میں سہ فریقی ٹرانزٹ معاہدے پر مذاکرات کئے جائیں گے۔ بعدازاں مناسب وقت پر دیگر وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔ دونوں ممالک نے جنوری کے شروع میں کابل میں افغان اور پاکستانی علما کی مشترکہ کانفرنس بلانے پر اتفاق کیا، دونوں ممالک نے مزید قیدیوں کی رہائی اور روابط استوار کرنے میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے ساتھ ساتھ طالبان پر زور دیا کہ وہ القاعدہ کے ساتھ روابط ختم کریں‘ پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اسلام آباد میں ایک روزہ مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی‘ علاقائی اور اہم بین الاقوامی امور خاص کر افغانستان کی صورتحال‘ امن اور مصالحتی عمل‘ سیاسی اور معاشی میدانوں میں تعاون اور سکیورٹی سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں برادر ملک مشترکہ تاریخ‘ ثقافت اور مذہب کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اس موقع پر دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں ملکوں نے اپنا یہ موقف دہرایا کہ سالمیت‘ علاقائی خودمختاری‘ آزادی اور باہمی احترام کے اصولوں پر باہمی تعلقات کو مزید فروغ دیتے ہوئے وسیع تر شعبوں میں تعاون اور باہمی روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ وزرائے خارجہ نے افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے وفد کے حالیہ دورہ پاکستان کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ افغان وفد نے پاکستان کی جانب سے افغان امن کونسل کی درخواست پر قیدیوں کی رہائی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا، پاکستان نے افغان زیرقیادت افغانوں کے امن اور مصالحتی عمل کی حمایت کا عزم دہرایا۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان نے اپنا یہ عزم دہرایا کہ وہ افغان قوم کو اپنے مستقبل کا خود تعین کرنے کے حق کی مکمل حمایت کرتا ہے، اس حوالے سے دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ افغان مصالحتی کونسل کے حالیہ دورہ کے موقع پر جاری مشترکہ بیان کے مندرجات پر عمل کیا جائے گا۔ دونوں ممالک نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ سکیورٹی ڈویلپمنٹ‘ ٹرانزٹ ٹریڈ‘ معیشت اور سرمایہ کاری کے روابط سمیت انفراسٹرکچر اور توانائی اشتراک اور عوامی رابطوں کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں ملکوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششوں کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں ملکوں کے حکام نے سرحد پار دراندازی اور شیلنگ جیسے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایسے معاملات سے نمٹنے کیلئے ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ دونوں ملکوں نے جون 2011ءمیں افغان صدر حامد کرزئی کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر اعلان کے مطابق قیدیوں کے معاملات نمٹانے کیلئے مشترکہ کمشن کو فعال بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں ملکوں کے مابین باہمی تجارت کے 2.5 ارب ڈالر کے حجم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فریقین نے باہمی تجارت کو مزید فروغ دینے کیلئے مزید سہولیات فراہم کرنے اور باہمی تجارت کو 2015ءتک 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا۔ افغان وفد نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی جانب سے افغان طلبا کو پاکستانی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے آسانیاں فراہم کرنے کیلئے 2000 سکالر شپس دئیے جانے کے منصوبے کو سراہا۔ دونوں ممالک نے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے باہمی دوروں کو آسان بنانے کیلئے ویزے کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پر بھی اتفاق کیا۔ دریں اثناءزلمے رسول نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کی۔ وزیراعظم پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو دہشت گردی اور منشیات کی لعنت کے مشترکہ چیلنج درپیش ہیں، دونوں ممالک کو ان چیلنجوں سے مل کر نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے، پرامن خوشحال اور مستحکم افغانستان خود پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان علما کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق دوطرفہ تعلقات کے استحکام میں مثبت کردار ادا کرے گا۔ افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ اعلیٰ امن کونسل کا دورہ کامیاب رہا اور دونوں حکومتیں اب حل تلاش کرنے کے لئے بات چیت کر رہی ہیں۔ وقت آن پہنچا ہے کہ ہمیں نتائج دکھانے چاہئیں۔ افغان نائب وزیر خارجہ جاوید لدن، پاکستان میں افغان سفیر محمد عمر داﺅدزئی، وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، وزیر دفاع سید نوید قمر اور دیگر سینئر حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔
اعلامیہ