بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں میں مسیحاؤں کو منہ موڑے پینتالیس روز گزرچکے ہیں جبکہ تکلیف سے تڑپتے مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں میں مسیحاؤں کو منہ موڑے پینتالیس روز گزرچکے ہیں جبکہ تکلیف سے تڑپتے مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ایک طرف بدامنی نےعوام پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے تو دوسری جانب ڈاکٹروں کی ہڑتال نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ ڈاکٹرز امن وامان میں ناکامی کی سزا حکومت کےبجائے عوام کو دینے پر تلے ہوئے ہیں اور ڈاکٹرسعید کی بازیابی کے باوجود ہڑتال ختم کرنے کو تیار نہیں۔ پینتالیس روز سے جاری ہڑتال نے مریضوں کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا ہے۔ مریضوں کا کہنا ہےکہ اتنی بڑی آبادی کےلیےصرف سی ایم ایچ میں سہولیات کافی نہیں۔ دوسری جانب صرف ایمرجنسی سروسز کی فراہمی بھی مریضوں کے دکھ کم کرنے میں ناکام ہے۔ او پی ڈیز اور آپریشن تھیٹرز بند ہونے کی وجہ سے سینکڑوں آپریشن ملتوی کردیےگئےہیں جس سے مریضوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ ادھر پی ایم اے نے ہڑتال کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلانے کی دھمکی دی ہے۔