اقوام متحدہ کی مبصر ریاست بننے پر فلسطینیوں کا جشن جاری ‘ نوجوانوں کا رقص ‘ امریکہ اور اسرائیل میں فیصلے پر نکتہ چینی

اقوام متحدہ کی مبصر ریاست بننے پر فلسطینیوں کا جشن جاری ‘ نوجوانوں کا رقص ‘ امریکہ اور اسرائیل میں فیصلے پر نکتہ چینی

رام اللہ (ایجنسیاں) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کو غیررکن مبصر ریاست کا درجہ دینے کے بعد فلسطینیوں نے فلسطین کے مختلف علاقوں اور دیگر ممالک میں جشن جاری ہے۔ غزہ اور رام اللہ میں فلسطینیوں نے گاڑیوں کے ہارن بجاکر خوشی کا اظہار کیا، کئی مقامات پر نوجوان گاڑیوں کی چھتوں اور سڑکوں پر رقص کرتے رہے۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگو کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کو غیررکن مبصر ریاست کا درجہ دینے کے بعد فلسطین اور اسرائیل اب مذاکرات کے عمل سے باہر نکل گئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں قرارداد منظور ہونے کے بعد غزہ اور مغربی کنارے پر جشن کا ماحول تھا۔ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر نغمے گائے، آتش بازی کی اور گاڑیوں کے ہارن بجاکر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی بیت المقدس کے علاقوں کو فلسطینی ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے جن علاقوں پر اسرائیل نے 1967ءمیں قبضہ کر لیا تھا۔ اس رائے شماری کے مخالفین کا مﺅقف رہا ہے کہ فلسطینی ریاست کا فیصلہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہئے۔ ایران نے جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کو غیررکن مبصر ریاست کا درجہ دینے کے فیصلہ کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام خوش آئند ہے اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے۔