ایوب خان کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی مرد تیار نہ ہوا تو مادر ملت میدان میں آئیں: مجید نظامی

ایوب خان کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی مرد تیار نہ ہوا تو مادر ملت میدان میں آئیں: مجید نظامی

لاہور (لیڈی رپورٹر) مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے ایوب خان کیخلاف صدارتی الیکشن لڑکر اپنے بھائی کے ملک میں جمہوریت کے قیام و دوام کیلئے اپنے آپ کو پیش کردیا۔ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے ہم نے ہمیشہ مادرملتؒ کے سپاہی کی حیثیت سے کام کیا اور آج تک کر رہے ہیں۔ مادر ملتؒ اپنے عظیم بھائی قائداعظمؒ کا خیال نہ رکھتیں اور ان کی بھرپور تیمارداری نہ کرتیں تو شاید وہ پاکستان بننے تک زندہ نہ رہتے۔ ان خیالات کا اظہار تحرےک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمےن مجےد نظامی نے اےوانِ کارکنانِ تحرےک پاکستان لاہور مےں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے 120ویں یوم ولادت کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔ اس تقریب کا اہتمام نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحرےک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کےا تھا۔ اس موقع پر نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسرڈاکٹر رفیق احمد‘ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین کرنل (ر) جمشید احمد ترین‘ سابق وفاقی وزیر سرتاج عزیز‘ ممبر قومی اسمبلی بیگم بشریٰ رحمان‘ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے شعبہ خواتین کی کنوینر بیگم مہناز رفیع‘ پروفیسر ڈاکٹر پروین خان‘ بیگم ثریا خورشید‘ بیگم صفیہ اسحاق‘ کرنل (ر) اکرام اللہ‘ صوبائی پارلیمانی سیکرٹری وممبر صوبائی اسمبلی رانا محمد ارشد‘ علامہ احمد علی قصوری‘ بیگم رضا ریاض‘ یٰسین وٹو‘ پروفیسر محمد مظفر مرزا‘ مولانا محمد شفیع جوش‘ ڈاکٹر یعقوب ضیائ‘ ڈاکٹر راشدہ قریشی‘ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے سیکرٹری رفاقت ریاض‘ کارکنان تحریک پاکستان‘ اساتذہ¿ کرام‘ طلبا و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ نظریاتی سمر سکول کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک‘ نعت رسول مقبولﷺ اور قومی ترانہ سے ہوا۔ حافظ امجد علی نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی نے بارگاہ رسالت ماب میں نذرانہ¿ عقیدت پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دیئے۔ مجید نظامی نے اپنے خطاب کے آغاز میں حاضرین کو مادر ملتؒ کے پروانوں کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا میری ماد رملتؒ سے بہت پرانی نیازمندی ہے۔ جب آپ کراچی سے لاہور آتیں تو میاں بشیر احمد مرحوم کے گھر ٹھہرا کرتیں۔ میں ان کی خدمت میں سلام نیازمندانہ کہنے حاضر ہوتا‘ اسی طرح جب مجھے کراچی جانے کا موقع ملتا تو میں وہاں ان کی خدمت میں حاضری دیتا تھا۔ محترمہ فاطمہ جناحؒ اور ایوب خان کا اٹ کھڑکا رہا۔ ایوب خان انہیں اپنے راستے کا پتھر سمجھتا تھا۔ جب صدارتی الیکشن کا وقت آیا تو بی ڈی سسٹم کے تحت 40ہزار ووٹرز مغربی پاکستان اور40ہزار ووٹرز مشرقی پاکستان میں تھے۔ ایوب خان نے رفتہ رفتہ اپنے آپ کو صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا اور الیکشن کی تیاری شروع کر دی۔ اس موقع پر ایوب خان کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی مرد تیار نہ تھا تو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ سب مردوں پر حاوی ہوکر میدان میں آگئیں۔ انہیں علم تھا ایوب خان الیکشن میں دھاندلی کرائے گا لیکن انہوں نے اپنے بھائی کے ملک میں جمہوریت کے قیام و دوام کیلئے اپنے آپ کو پیش کردیا۔ یہ بات حقیقت ہے جب انہوں نے صدارتی امیدوار بننے کا اعلان کیا تو نوائے وقت کے سوا کسی نے اس اعلان کو نہ چھاپا۔ بعدازاں جب مادرملتؒ نے اپنی الیکشن مہم کا آغاز کراچی سے بذریعہ ٹرین کیا تو نوائے وقت نے ہی اس کی کوریج کی لیکن رفتہ رفتہ نیشنل پریس ٹرسٹ کے علاوہ دیگر اخبارات نے بھی ان کو کوریج دینا شروع کردی۔ اللہ تعالیٰ مادرملتؒ کو غریق رحمت کرے۔ مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے الیکشن کے بعد مجھے یاد فرمایا۔ میں نے کراچی پہنچ کر انہیں فون کیا تو انہوں نے مجھے ناشتہ کیلئے اپنے ہاں آنے کی دعوت دی۔ یہ میری زندگی کا خوشگوار ترین لمحہ تھا۔ یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ محترمہ فاطمہ جناحؒ نے مجھے قصرفاطمہ کراچی میں بلوایا اور ناشتے کی میز پر الیکشن کے دوران ان کی بھرپور حمایت پر شکریہ اداکرنا چاہا لیکن میں نے کہا آپ میری ماں ہیں اور یہ میرا فرض تھا جو میں نے ادا کیا ہے۔ میں نے محترمہ فاطمہ جناحؒ کو مادرملتؒ کا خطاب دیا اور ان کے آخری دم تک انہیں مادرملت سمجھا اور ہر طرح سے ان کی پذیرائی کی۔ ایک دن اطلاع ملی سوتے ہوئے وہ اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئی ہیں۔ لیکن میرے خیال میں وہ سوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو پیاری نہیں ہوئیں بلکہ انہیں گلا گھونٹ کر مار دیا گیا۔ کیونکہ ان کے گلے پر نشان تھے جس کی تصدیق اس خاتون نے بھی کی جس نے انہیں غسل دیا تھا۔ ہمارے ہاں محسنان قوم کے ساتھ ایساہی سلوک ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں قائداعظمؒ کی ایمبولینس ایئرپورٹ کے راستے میں خراب ہوگئی اور ظالموں نے ان کیلئے نمبر ون ایمبولینس یا اس کے متبادل کوئی انتظام ہی نہیں کیا تھا۔ میں بانیان پاکستان میں قائداعظمؒ، علامہ محمد اقبالؒ کے ساتھ مادرملتؒ کو بھی شامل کرتا ہوں کیونکہ اگر مادرملتؒ اپنے عظیم بھائی کا خیال نہ رکھتیں اور ان کی بھرپور تیمارداری نہ کرتیں تو شاید وہ پاکستان بننے تک زندہ نہ رہتے۔ ہمارا یقین ہے اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کا وقت لکھا ہوا ہے لیکن میرے خیال میں قائداعظمؒ کے معاملہ میں یہ وقت بدلا گیا اورانہیں پاکستان بنانے تک مہلت دی گئی۔ بانیان پاکستان نے ہمیں آزادی لے کردی اور آزادی سے بڑھ کرکوئی نعمت نہیں۔ ہمیں انگریزوں سے ہی نہیں بلکہ ہندوﺅں کی غلامی سے بھی آزادی ملی اس بات پر ہندو بنیا تلملا اٹھا اور پاکستان کو توڑنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ آج امن کی آشا کے پجاری اس کا گیت گا رہے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں امن کی آشا کے پجاریوں سے نجات عطا فرمائے۔ جب اےوب خان صدر منتخب ہوگئے تو منظور قادر نے مجھے پیغام دیا ایوب خان آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا وہ مجھے بلائیں تو مل لوں گا ورنہ بغیر بلائے میں ان سے نہیں ملوں گا۔ ان کے صدر رہنے تک یہ کشمکش جاری رہی ۔ اقتدار سے علےحدگی کے بعد جنرل اےوب خان نے مجھے پےغام بھجواےا اس ظالم سے کہو مجھے مل لے۔ میں نے اس پر کہا میں ہرگز ظالم نہیں۔ بہرحال میں جنرل ایوب خان سے ملنے گیا تو وہ گھرسے باہر میرا استقبال کرنے کے لئے آئے۔ جب جنرل ایوب نے مجھ سے پوچھا میں نے اقتدار جنرل یحییٰ کے حوالے کرکے اچھا اقدام کیا ہے؟ تو میں نے کہا نہیں۔ آپ نے قوم کو ایک مصیبت کے بعد دوسری مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ اس پر جنرل اےوب خان نے کہا میرے ہرکام کی بسم اللہ ہی غلط ہوتی ہے۔ مجید نظامی نے کہا جنرل ایوب خان نے مجھ سے شائع نہ کرنے کا حلف لے کر بہت سی باتےں کہےں۔ پروفےسر ڈاکٹر رفےق احمد نے کہا مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ قائداعظمؒ کی تصویر تھیں۔ لوگ مادرملت ؒ کے اوپر لکھی کتابوں کا مطالعہ کریں تاکہ ان کی شخصیت کے مختلف پہلوﺅں کے بارے میں آگہی ہوسکے۔ کرنل (ر) جمشید احمد ترین نے کہا آئندہ الیکشن میں صرف ایماندار اور اہل قیادت کو سامنے لایا جائے اور ایسے افراد کوووٹ دیں جو پاکستان کو قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے وژن کے عین مطابق ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنانے کا عزم کریں۔ تحرےک پاکستان کے کارکن سرتاج عزےز نے کہا مادرملت کا سب سے بڑا کارنامہ تحریک پاکستان کے دوران خواتین کو متحرک کرنا ہے۔آپ نے ہمیشہ جمہوریت کا عَلم بلند رکھا۔ بیگم بشریٰ رحمان نے کہا جب مادرِ ملتؒ تحرےک پاکستان مےں خواتےن کی رہنمائی کے لئے مےدان عمل مےں نکلےں تو ان کا لباس اسلامی تھا۔ وہ انتہائی بلندکردار کی مالکہ تھیں۔ پاکستان ایک ایسی بڑی حقیقت ہے جو تاقیامت قائم و دائم وسلامت رہے گا اور اس کے ساتھ قائداعظمؒ، علامہ محمد اقبالؒ اور مادرملتؒ کا نام بھی زندہ رہے گا۔ بیگم مہناز رفیع نے کہا ہمےں ہر حال مےں مادرِ ملتؒ جےسی عظےم ہستی کے نقش قدم پر چلنا چاہےے۔ پروفےسر ڈاکٹر پروےن خان نے کہا تحرےک پاکستان کے دوران مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے خواتےن کو گھروں سے نکال کر آزادی کے لےے کام کرنے پر تےار کےا ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ بیگم ثریا خورشید نے کہا مےں طوےل عرصہ مادرِ ملتؒ کے ہمراہ رہی۔ ان کا سفےد لباس اور ہنستا مسکراتا چہرہ آج بھی مےرے سامنے ہے۔ وہ قوم کی رہنمائی کےلئے ہمہ وقت متحرک رہتےں۔ بانی¿ پاکستان کی ہمشےرہ ہونے کے باوجود اُنہوں نے کوئی عہدہ قبول نہےں کےا جو عظےم مثال ہے۔ بیگم صفیہ اسحاق نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو مسلسل پنپنے کا موقع دیا جاتا تو آج ہماری حالت مختلف ہوتی۔ ضرورت اس امر کی ہے ہم قائداعظمؒ اور مادرملتؒ کے افکار وخیالات کی روشنی میں آگے بڑھیں قبل ازیںنظریہ ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشےد نے شرکاءکی آمد پر ان کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا ہم اپنے محسنین کو اس لئے یادکرتے ہیں کہ ان کی حیات سے روشنی حاصل کر کے مستقبل کا سفر طے کریں۔ مجید نظامی کی قیادت میں مادرِ ملتؒ کی حےات و خدمات سے قوم کو آگاہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پروگرام کے دوران مجید نظامی نے کارکنان تحریک پاکستان اور معزز مہمانان گرامی کے ہمراہ مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے یوم ولادت کے موقع پر کیک کاٹنے کی رسم اداکی۔ پروگرام کے دوران حافظ آباد سے آئے ہوئے عثمان بشیر نے مجید نظامی کو محترمہ فاطمہ جناحؒ کا پورٹریٹ پیش کیا۔ آخر میں نظریاتی سمر سکول کے طلبا وطالبات کو مادرملتؒ کی سالگرہ کا کیک اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے اعلان کردہ ایک سو روپے فی کس دیئے گئے۔ پروگرام کا اختتام پاکستان‘ قائداعظمؒعلامہ محمد اقبالؒ‘ مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ہوا۔