ننکانہ: نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کے کزن وکیل کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا

ننکانہ صاحب (نمائندہ نوائے وقت) پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ نے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے کزن ننکانہ کے وکیل ملک سلیم کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ ملزم نے سلیم لطیف کے بیٹے پر 4 مرتبہ فائر کیا مگر گولی نہ چل سکی۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو 8:30بجے ننکانہ کے رہائشی 65سالہ ملک سلیم لطیف ایڈووکیٹ اپنے بیٹے ملک فرحان لطیف ایڈووکیٹ کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ضلع کچہر ی ننکانہ جارہے تھے کہ گولڈن ہوٹل کے نزدیک پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ ارشد عرف کوڈو نے 12بور پمپ ایکشن کا فائر اس کی چھاتی میں مارا تو سلیم لطیف اور اس کا بیٹا چند گز دور جا کر گر گئے۔ اسی دوران محرر تھانہ سٹی عامر بھٹی اچانک وہاں پہنچا تو اس نے چھپ کر پولیس کو اطلاع کی پولیس کو آتے دیکھ کر ملزم ساتھی رکشہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کر فرار ہوگیا۔ ڈی پی او صاحبزادہ بلال عمر نے گولڈن ہوٹل کی فوٹیج حاصل کرکے پولیس کو ملزم کی گرفتاری کی ہدایات دیں 9گھنٹے بعد پولیس نے گھر میں چھپے 21سالہ ملزم ارشد عرف کوڈو کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ ملزم شادی شدہ اور گورو بازار میں بطور پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ ڈیوٹی کرتا ہے۔ مقتول کا ایک بیٹا اویس لاہور میں سول جج بھی ہے جس نے مقدمہ کے اندراج اور پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کردیا۔ تھانہ سٹی پولیس نے موقع پر موجود ٹریفک کانسٹیبلان اور ایس ایچ او محمد نواز ورک کی مدعیت میں مقدمہ درج کرتے ہوئے نعش کا پوسٹ مارٹم کرایا۔ ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان نے کہا ہے کہ سلیم الطاف جماعت احمدیہ ننکانہ صاحب کے صدر تھے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق کالعدم لشکر جھنگوی نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔سلیم لطیف کے قتل کے خلاف ڈسٹرکٹ بار ننکانہ صاحب کے وکلاءنے مکمل ہڑتال کی اور کوئی بھی وکیل کسی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوا۔
وکیل قتل