معروف صحافی اور نوائے وقت کے سابق نیوز ایڈیٹر عاشق علی فرخ انتقال کر گئے

معروف صحافی اور نوائے وقت کے سابق نیوز ایڈیٹر عاشق علی فرخ انتقال کر گئے

ملتان (خاتون رپورٹر) معروف صحافی اور نوائے وقت کے سابق نیوز ایڈیٹر سید عاشق علی فرخ انتقال کر گئے ہیں۔ وہ طویل عرصہ سے شوگر اور گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھے ان کی نماز جنازہ آج صبح لاہور اور قصور میں ادا کی جائیگی اور انہیں آبائی علاقے مصطفیٰ آباد للیانی قصور میں سپردخاک کیا جائیگا۔ سید عاشق علی فرخ 1942 ءمیں ضلع قصور کے نواحی علاقے للیانی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور آ گئے اور پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن اور ایم اے جرنلزم کیا اور روزنامہ نوائے وقت سے 1962ءمیں منسلک ہوگئے۔ 1978ءمیں نوائے وقت ملتان میں بطور نیوز ایڈیٹر تعینات ہوئے اور 2002ءتک اپنے فرائض سرانجام دئیے۔ 2002ءمیں ایک قومی روزنامہ سے منسلک ہوئے اور بطور سینئر ریذیڈنٹ ایڈیٹر تادم آخر اپنے فرائض سرانجام دئیے۔ سید عاشق علی فرخ نے شروع میں چند ماہ رپورٹنگ کی مگر بعدازاں ایڈیٹنگ کے شعبے سے آ گئے اور 50 برس صحافت میں گزار دئیے۔ اپنے مزاج اور ڈسپلن کے باعث ”شاہ جی“ ایک مثالی افسر مانے جاتے تھے، اپنی صحافت کے حوالے سے اکثر یہ شعر کہتے تھے کہ....
ہم صبح پرستوں کی ریت پرانی ہے
ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا
سید عاشق علی فرخ نے اپنے پسماندگان میں 5 بیٹے اور ایک بیٹی سوگوار چھوڑی ہے۔ ان کے تین بیٹے صحافت سے وابستہ ہیں۔ سید آصف علی اپنے والد کے ہی اخبار میں لاہور میں بطورنیوز ایڈیٹر‘ سید شاہد علی چینل سی 42 اور سید راشد علی روزنامہ نوائے وقت سے وابستہ ہیں جبکہ ایک بیٹا سید ساجد علی ڈاکٹر ہیں اور کینیڈا میں مقیم ہیں جبکہ زاہد علی لاہور میں بزنس کرتے ہیں۔ دریں اثناءگزشتہ شب سید عاشق علی فرخ کی نماز جنازہ ٹیوب ویل ورکشاپ جامع مسجد کے گرا¶نڈ میں ادا کی گئی جس میں سینئر صحافیوں‘ کالم نگاروں‘ سیاستدانوں‘ سماجی ورکروں اور عمائدین شہر کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔