ڈاکٹر صاعقہ پروفیسر تقرری کیس‘ یونیورسٹی سنڈیکیٹ ممبران کے متضاد بیانات

ڈاکٹر صاعقہ پروفیسر تقرری کیس‘ یونیورسٹی سنڈیکیٹ ممبران کے متضاد بیانات

 ملتان (نمائندہ نوائے وقت) بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سنڈیکیٹ اجلاس میں شعبہ انگلش کی ڈاکٹر صاعقہ امتیاز کی بطور پروفیسر تقرری کا کیس آئندہ اجلاس تک م¶خر ہونے بارے ممبران سنڈیکیٹ کے متضاد بیانات سامنے آ گئے۔ سنڈیکیٹ ممبران ڈاکٹر محمد فاروق اور بخت یاور خان نے ڈاکٹر صاعقہ امتیاز کی تقرری کو یونیورسٹی قوانین کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بطور پروفیسر تقرری بارے سنڈیکیٹ اجلاس میں کوئی بحث و مباحثہ ہی نہیں ہوا ہے البتہ اس کا ذکر ایک ممبر نے زبانی کیا تھا لیکن تحریری طور پر یہ ایجنڈا کا حصہ نہیں تھا۔ جبکہ ممبر سنڈیکیٹ ڈاکٹر شوکت ملک نے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر صاعقہ امتیاز کا کیس سنڈیکیٹ اجلاس ایجنڈا کے وایلم نمبر 4 پارٹ سیکنڈ صفحہ 84 پر بعنوان سلیکشن بورڈ بتاریخ 9, 8 اگست 2009 سی ڈبلیو آئٹم نمبر 7 پر موجود تھا جس پر نشاندہی کی کہ ڈاکٹراسحاق فانی کی ڈاکٹر صاعقہ امتیاز کے خلاف عرضداشت جمع ہونے کی بنا پر اس کی منظوری نہ دی جائے جس پر ڈاکٹر صاعقہ امتیاز کے کیس کے علاوہ اس سلیکشن بورڈ کے دیگر تمام فیصلے کی منظوری دیکر ڈاکٹر صاعقہ امتیاز کا کیس ڈیفر کر کے آئندہ اجلاس کیلئے موخر کر دیا گیا۔ زکریا یونیورسٹی کے رجسٹرار و سیکرٹری سنڈیکیٹ ملک منیر حسین نے نوائے وقت کے رابطہ کرنے پر تصدیق کی کہ ڈاکٹر صاعقہ امتیاز کا کیس ایجنڈے میں شامل تھا جو آئندہ اجلاس کیلئے ڈیفر کر دیا گیا اور ان کی تقرری کے خلاف پروفیسر ڈاکٹر اسحاق فانی کی عرضداشت بھی جمع ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر صاعقہ امتیاز کو سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفراﷲ نے سنڈیکیٹ کے خصوصی اختیارات 16/03 کے تحت پروفیسر تعینات کیا اور اس خصوصی اختیار کے تحت انہیں کنفرم بھی کر دیا تھا۔