ٹیچرز ایسوسی ایشن کا اجلاس، زکریا یونیورسٹی کو ضابطوں کے مطابق چلانے کی قرارداد پیش

ٹیچرز ایسوسی ایشن کا اجلاس، زکریا یونیورسٹی کو ضابطوں کے مطابق چلانے کی قرارداد پیش

ملتان (نمائندہ نوائے وقت) بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (بروٹا) کا ایک ہنگامی اجلاس پروفیسر ڈاکٹر اکبر انجم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں حالیہ سنڈیکیٹ روٹے کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ڈاکٹر عاشق درانی نے دو سال کنٹریکٹ پر کام کر کے رولز اور سنڈیکیٹ کے فیصلوں کے مطابق کنفرم ہونے والے اساتذہ کی سیٹوں کو دوبارہ مشتہر کرنے یا انکو دوبارہ سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش ہو کر سلیکٹ ہونے کی غلط قرارداد پیش کی جس پر بروٹا سے تعلق رکھنے والے ممبر سنڈیکیٹ ڈاکٹر محمد شوکت ملک نے میٹنگ میں اس تجویز کو دلائل کے ساتھ خلاف قانون و خلاف ضابطہ اور ان اساتذہ کے خلاف زیادتی قرار دیا۔ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن بھی ان اساتذہ کے خلاف کسی بھی کارروائی کو ظالمانہ اقدام اور ان اساتذہ کے خلاف معاشی قتل قرار دیتی ہے اور انتظامیہ اور تمام ممبران سنڈیکیٹ بی زیڈ یو سے مطالبہ کرتی ہے کہ کسی ممبر کی ”غیر قانونی“ تجویز کو قبول نہ کیا جائے۔ اجلاس میں یونیورسٹی کو قانون و ضابطوں کے مطابق چلانے کی قرارداد پیش کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ان سروس سینئر اساتذہ کے پروموشن و سنیارٹی کی تاریخ کو سنڈیکیٹ کے سابقہ فیصلوں کے مطابق چلنے دیا جائے۔ ان کو تبدیل کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ وائس چانسلر کے تمام قانونی اقدامات کی تعریف کی گئی اور ان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود انصاری‘ پروفیسر ڈاکٹر فاروق زین‘ ڈاکٹر محمد شوکت ملک‘ ڈاکٹر عامر عباس شیرازی‘ انجینئر وحید قمر‘ پروفیسر ڈاکٹر اسحاق فانی‘ پروفیسر ڈاکٹر نور دین جامی‘ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد‘ پروفیسر ڈاکٹر اسلم شاد‘ پروفیسر ڈاکٹر علیم احمد‘ پروفیسر ڈاکٹر حکومت علی‘ پروفیسر ڈاکٹر مقصود احمد‘ پروفیسر ڈاکٹر عقیلہ بشیر‘ ڈاکٹر شکیل احمد‘ ڈاکٹر عبدالوحید‘ ڈاکٹر سمعیہ حفیظ چودھری‘ مس شگفتہ ریاض‘ ڈاکٹر ظاہر فریدی اور ندیم اقبال شامل تھے۔