ملتان : مختلف واقعات میں 18 سالہ لڑکی 4 سالہ بچے سمیت چار افراد قتل

ملتان : مختلف واقعات میں 18 سالہ لڑکی 4 سالہ بچے سمیت چار افراد قتل

ملتان‘ روہیلانوالی‘ شجاع آباد (نمائندہ خصوصی‘ خبر نگار‘ نامہ نگار) مختلف واقعات میں 18 سالہ لڑکی 4 سالہ بچے سمیت چار افراد قتل کر دیئے گئے ملتان سے نمائندہ خصوصی کے مطابق کپ پولیس کے علاقے اندرون شہر میں نہالو گروپ اور مرشد علی گروپ کی پرانی دشمنی چل رہی ہے بتایا جاتا ہے کہ مرشد علی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کچہری میں پیشی کے بعد واپس جا رہا تھا کہ نہالو گروپ کے افراد نے چہلیک پولیس کے علاقے میں ان پر فائرنگ کردی جس سے الطاف اور ریاض الدین زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں کپ پولیس کے علاقے میں مسلح افراد نے مرشد علی کے گھر میں گھس کر فائرنگ کی۔ جس سے مرشد علی کی 18 سالہ بیٹی کرن شدید زخمی ہو گئی اسے نشتر ہسپتال لے جانے کی کوشش کی گئی مگر وہ راستے میں ہی جاں بحق ہو گئی۔ واقع کے خلاف مقتولہ کے لواحقین نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ملزموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا مظاہرین نے الزام لگایا کہ ملزمان محمد عون‘ کلیم‘ صلاح الدین اور مزمل وغیرہ نے فائرنگ کی۔ واقع کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں۔ فائرنگ کی وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ کچھ عرصہ قبل بھی حسین آگاہی میں دونوں گروپوں میں تصادم ہوا تھا مگر لوہاری گیٹ پولیس کی جانب سے موثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ دونوں گروپوں کے درمیان دوبارہ جھگڑا ہوا۔ شہر میں دوسرے واقعہ میں آڑی والا کے رہائشی محمد الیاس کی خضر حیات کے ساتھ دشمنی چل رہی تھی جس پر خضر حیات نے فائرنگ کر کے الیاس کو قتل کردیا۔ فائرنگ کے بعد ملزم فرار ہو گیا۔ مقتول کی عمر 45 سال تھی مقتول کے لواحقین کا کہنا ہے کہ خضر حیات منشیات فروخت کرتا ہے۔ الیاس نے اسے منشیات فروش سے منع کیا تھا۔ اس رنجش پر ملزم نے اسے قتل کیا۔ مظفرآباد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔ روہیلانوالی سے خبر نگار کے مطابق روہیلانوالی کے نواحی موصع شکربیلہ کے رہائشیوں اﷲ وسایا‘ محمد حسین‘ محمد بخش کے درمیان وراثتی اراضی کا تنازعہ تھا اور مقامی لوگوں نے حل کرانے کی کوشش بھی کی لیکن محمد حسین‘ محمد بخش دونوں بھائیوں نے آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کر کے تیسرے بھائی اﷲ وسایا کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ شجاع آباد سے نامہ نگار اور خبر نگار کے مطابق شجاع آباد کے نواحی علاقہ جمال موڑ موضع گجوہٹہ کے رہائشی غریب مزدور عابد بھٹہ کا 4 سالہ بیٹا احمد رضا جو 5 روز قبل گھر سے پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا تھا اس کی ہر جگہ تلاش کی جا رہی تھی کہ گزشتہ روز پل کھارا نہر میں جھاڑیوں میں اٹکی ہوئی اس کی نعش ملی جسے پولیس تھانہ صدر شجاع آباد کی گاڑی ڈرائیور نے دیکھا اور نعش کو سول ہسپتال لایا بچے کے لواحقین اطلاع ملتے ہی ہسپتال پہنچ گئے معصوم بچے کی نعش مسخ شدہ تھی جسم پر پہنے ہوئے کپڑے والدہ کو دکھائے گئے جس نے پہچان لیا پوسٹ مارٹم کے بعد بچے کی نعش نشتر ہسپتال ملتان کے سرد خانے میں رکھوا دی گئی ہے ۔ مزید تفتیش پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد کی جائیگی اس قتل کے محرکات سامنے آئیں گے واضح رہے کہ عابد بھٹہ کے ہاں شادی کے 15 سال بعد بیٹا پیدا ہوا تھا اور اس کی کوئی اولاد نہ تھی۔