سٹاکسٹوں نے چینی کے نرخ ازخود بڑھا دئیے ‘ گندم کی ذخیرہ اندوزی افغانستان سمگلنگ‘ بحران کا خدشہ

سٹاکسٹوں نے چینی کے نرخ ازخود بڑھا دئیے ‘ گندم کی ذخیرہ اندوزی افغانستان سمگلنگ‘ بحران کا خدشہ

ملتان (جنرل رپورٹر) حکومت کی جانب سے چینی پر 15 فی صد سیلز ٹیکس عائد کرنے کے اعلان پر ملتان سمیت ملک بھر کے سٹاکسٹ نے چینی کے نرخوں میں از خود اضافہ کردیا ہے غلہ منڈی ملتان میں چینی 100 کلوگرام کے نرخ 4950 سے بڑھ کر 5700 روپے کی سطح پر جا پہنچے تاہم مارکیٹ کے بند ہونے سے قبل چینی 100 کلوگرام کے نرخ 5400 روپے اور پھر 5200 روپے کی سطح پر آ گئے ہیں جبکہ چاول کی ایکسپورٹ میں اضافہ کے باعث 4000 روپے سے بڑھ کر 4200 روپے کی سطح پر پہنچ گئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق گندم کے سرکاری نرخ 1200 روپے فی من مقرر ہونے کے باوجود گندم کی افغانستان سمگلنگ کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی فروخت تقریباً رک چکی ہے اور سٹاکسٹ ذخیرہ اندوزی سمیت اضافی نرخ ملنے کے باعث غیر قانونی طور پر افغانستان سمگلنگ کو ترجیح دے رہے ہیں ذرائع کے مطابق اگر حکومتی اداروں نے فوری اور بروقت اقدامات نہ اٹھائے تو ملک میں گندم کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف ملتان و جنوبی پنجاب میں گرمی کی شدت میں اضافہ آنے کے ساتھ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ڈی سی او ملتان کی جانب سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو واضح ہدایات اور گرانفروش مافیا کے خلاف اقدامات کے احکامات کے باوجود مقامی مارکیٹوں میں اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں 25 سے 50 فی صد اضافہ معمول کی بات بن چکا ہے جبکہ شہر کی چند مخصوص دکانوں پر موسمی فروٹس 100 سے 200 فی صد اضافی نرخوں پر فروخت کیا جا رہا ہے مثال کے طور پر تربوز مارکیٹ کمیٹی کے نرخنامہ کے مطابق 15 روپے اوپن مارکیٹ میں 30 سے 40 روپے کلو‘ آڑو 100 روپے مارکیٹ 120 روپے‘ خوبانی 150 روپے مارکیٹ 300 روپے خربوزہ 24 روپے مارکیٹ 40 روپے گرما 40 روپے مارکیٹ 80 روپے چیکو 60 روپے مارکیٹ 100 روپے فروخت کیا جا رہا ہے۔