ایف بی آر میں ایک ہزار ارب خورد برد ‘ شوکت ترین کے بیان پر مکمل خاموشی

ایف بی آر میں ایک ہزار ارب خورد برد ‘ شوکت ترین کے بیان پر مکمل خاموشی

ملتان (طارق انصاری سے) سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو بارے ریکارڈ پر موجود بیان کہ 600 سے 1000 ارب روپے تک مذکورہ ادارے میں خوردبرد کر لئے جاتے ہیں نہ تو حکومت وقت ٹس سے مس ہوئی اور نہ ہی ایف بی آر کے اعلیٰ حکام نے اربوں روپے کی کرپشن کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھانا ضروری سمجھا ملک بھر کے بڑے شہروں میں موجود آر ٹی اوز حکومت وقت کو سیلز اور انکم ٹیکس کی مد میں ہونیوالی حقیقی ریکوری سے محروم کرنے میں اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں اور سالانہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں بعض افسران براہ راست ملوث ہیں جو معمولی سا حصہ وصول کر کے ملک کو اربوں روپے کے محاصل سے محروم کرتے چلے آ رہے ہیں بعض معتبر ذرائع کے مطابق صرف ملتان آر ٹی او میں موجود چند افسران مختلف سیکٹرز سے منسلک شخصیات کو سالانہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری کے نہ صرف مواقع فراہم کرتے ہیں جبکہ بعض اوقات ٹیکس چوری کے پختہ شواہد کے باوجودچشم پوشی کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں ملتان آر ٹی او میں 2009ءسے لیکر 2012ءتک تعینات رہنے والے تمام چیف کمشنرز کے سامنے ٹیکس چوری کے کیسز آتے رہے ہیں لیکن ان کیسز کی تحقیقات کے لئے بوجوہ گریز کیا گیا ہے ملتان آر ٹی او کے ریکارڈ کے مطابق صرف چند کمپنیوں کی جانب سے 2009ءکے دوران کروڑوں روپے ٹیکس چوری کئے گئے جبکہ 2010ءمیں مزید چند کمپنیوں کو 25 کروڑ سے لیکر 70 کروڑ تک کی ٹیکس چوری کا انکشاف جلد متوقع ہے یہ ہیں وہ ناسور جو اس ملک کی دہشت کو گھن کی طرح اندر سے کھائے جا رہے ہیں ۔