ٹیکس واپس کے اعلان کے باوجود ناجائز منافع خوری جاری‘ مجسٹریٹی نظام غیر فعال

ٹیکس واپس کے اعلان کے باوجود ناجائز منافع خوری جاری‘ مجسٹریٹی نظام غیر فعال

ملتان (جنرل رپورٹر) حکومت کی جانب سے اشیائے خوردونوش و ضروریہ پر لگانے جانیوالے ٹیکس کی واپسی اور واضح اعلان کے باوجود شہر بھر میں پرچون مافیا منافع خوری کے ریکارڈ قائم کرنے پر تلا ہوا ہے جس سے ذخیرہ اندوز مافیا بھی پورا پورا اپنا حصہ وصول کرنے میں مصروف ہے معاشرے کا بے بسی پر مبنی یہ قبیلہ بلاخوف صارفین کے استحصال کرنے اور اپنی جیبیں بھرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت کرنے سے نہیں چوک رہا اس صورتحال میں ضلعی انتظامیہ کا مجسٹریٹی نظام غیر فعال ہونے کے ساتنھ ساتھ خاموش تماشائی کی تصویر بن کر رہ گیا ہے افسوناک امر ہے کہ 40 سے 42 پرائس کنٹرول مجسٹریٹ جو ضلعی انتظامیہ کی لسٹ میں درج ہیں وہ کہاں غائب ہیں مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے جاری کئے جانے والے نرخنامہ کے مقاصد کیا ہیں اگر اس نرخنامہ کا مقصد عوام کو مقررہ قیمتوں پر اشیائے خورد ونوش فراہم کر کے ریلیف دینا ہے تو پھر شہر بھر میں موجود اشیائے خوردونوش فروخت کرنیوالوں کی قیمتوں میں 50 سے 100 فی صد تک تضاد کیونکر ہے اور ضلعی انتظامیہ ان منافع خوروں کے خلاف اقدامات اٹھانے سے گریزاں کیوں ہے بہت سے سوالات ہیں شہریوں کے ذہنوں میں جن کا ضلعی انتظامیہ جواب دینا چاہئے تو قانون کی رٹ قائم کر کے دے سکتی ہے جبکہ موجودہ صورتحال میں اشیائے خوردونوش کے کینٹ میں الگ قیمتیں ہیں گلگشت‘ نو نمبر چونگی ‘ قدیر آباد موڑوے ملحق 7 نمبر سمیت دیگر علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عروج پر ہیں۔