مسلمانوں کے متعلق غلط فہمیوں کو بین المذاہب مذاکرات سے ختم کرنا ہوگا: شاہ محمود

ملتان (نمائندہ نوائے وقت+ ایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ گلوبل دنیا میں مسلمانوں کے بارے میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کو بین المذاہب مذاکرات اور اپنے اعمال و کردار کے ساتھ ختم کرنا ہوگا۔ گزشتہ روز بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دنیا کی توجہ انتہاءپسندی اور دہشت گردی کی طرف مرکوز ہو کر رہ گئی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ ایسا کیوں اور کون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہالبروک کے موجودہ دورہ پاکستان میں ہم نے ان سے تلاشی کے نئے قوانین کے بارے میں شدید احتجاج کیا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے۔ ہمیں اس تصور اور رائے کو توڑنا ہے یہ کام عقل سے ہوگا جذبات سے نہیں اور اس کے لےے ہمیں صوفیاءکے کردار ان کے اعمال اور تصوف کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دہشت گردی، انتہاپسندی کا خاتمہ ممکن ہے۔ دنیا میں ہمارے مدرسوں بارے غلط تاثر پھیلایا جارہا ہے کہ مدرسے انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔ مگر ان کا یہ تاثر حقائق کے برعکس ہے اور ہمارا مدرسہ نظام تعلیم بہت بڑا فلاحی اور تعلیمی نظام ہے تاہم مدرسہ جات میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی علوم کی تعلیم کی فراہم کے لےے مدرسہ ایجوکیشن ریفارمز لانا ہوں گی۔