قوم کو مخلوط نظام تعلیم قابل قبول نہیں: ڈاکٹر وسیم اختر

قوم کو مخلوط نظام تعلیم قابل قبول نہیں: ڈاکٹر وسیم اختر

ملتان(نامہ نگار خصوصی)ممبر صوبائی اسمبلی وپارلیمانی لیڈر اور امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہا ہے کہ مخلوط تعلیم کے حوالے سے”اکنامک سروے“کی رپورٹ لمحہ فکریہ اور حکمرانوں کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی،اس میں واشگاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ”مخلوط تعلیم سے سکولوں میں بچیوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔2006سے2012کے درمیان 5ہزار پرائمری سکول عملاً ختم کردیے گئے ہیں“۔حکومتی پالیسی کے تعلیم پر گہرے منفی اثرات واقع ہورہے ہیں۔قوم کو مخلوط نظام تعلیم قابل قبول نہیں۔جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر سید وسیم اختر نے مزید کہاکہ حکمران ایسے فیصلے نہ کریں جن سے ملک و قوم کو ناقابل تلا فی نقصان ہو۔وزیر اعلیٰ تعلیم دوست ہیں لہٰذااخلاقی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تعلیم کے فروغ کے لئے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔خواتین کی تعلیم ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔سماجی رکاوٹیں اور معاشرتی مسائل جہاں ان کی تعلیم حاصل کرنے کی راہ میں حائل ہیںوہاں حکومت کی جانب سے مخلوط نظام تعلیم کی پالیسی کو جاری رکھنا جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہاکہ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق سکولوں کے ادغام سے نہ صرف بچیوں کے گھروں سے سکولوں کا فاصلہ بڑھ گیا ہے بلکہ 2005سے2009کے دوران ناخواندہ بچیوں کی تعداد میں10لاکھ کااضافہ بھی ہوا ہے جوکہ قابل تشویش امر ہے۔