ایران امریکہ کا لاڈلا بن چکا، بھارت سے تجارت ہمارے مفاد میں ہے: اویس لغاری

ملتان (انٹرویو: نوید شاہ‘ فرحان انجم ملغانی) خارجہ امورکی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اویس خان لغاری نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے دنیا بھر میں مثبت امیج کے لئے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔ سابق حکومت نے جتنے بھی معاملات کئے وہ بنا سوچے سمجھے کئے۔ پاکستان امریکہ سمیت تمام ممالک سے برابری کی سطح پر تعلقات قائم کر رہا ہے۔ قومی پالیسی پر پہلی مرتبہ فوجی اور سویلین رائے یکجا ہے۔ پاکستان کو اپنے وسائل سے استفادہ کرنے سے کوئی بھی ملک نہ تو روک سکتا ہے اور نہ ہی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ پاکستان ایران گیس منصوبے کی منظوری سابق حکمرانوں نے معاشی تجزیہ کے بغیر دی تھی۔ بھارت سے تجارت پاکستان کے مفاد میں ہے۔ کشمیر کاز پر بھارت کا کردار ہمیشہ منافقانہ رہا ہے۔ بگ تھری کے معاملہ پر پی سی بی کو مکمل بااختیار کر دیا ہے۔ توانائی کا بحران جلد ختم ہو جائے گا۔ ٹیکس نیٹ میں اب تک صرف ملازمت پیشہ افراد ہی آ سکے ہیں۔ محفوظ پاکستان بنانے کے لئے مشرقی کے ساتھ مغربی بارڈر کو بھی محفوظ بنانا ہو گا۔ پرویز مشرف کے ٹرائل کے لئے قائم خصوصی عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی اسے حکومت قبول کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز روزنامہ نوائے وقت کے دفتر میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا طالبان سے قائم مذاکراتی کمیٹی ایک تاریخی کردار ادا کر رہی ہے۔ طالبان کے مختلف گروپس ہیں مجھے قوی امید ہے یہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے تاہم جو گروپس باقی رہ جائیں گے ان سے بات چیت سے معاملات  حل نہ ہونے پر فائنل ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں بھارتی مداخلت کے شواہد مل رہے ہیں۔ اس پر بین الاقوامی سطح پر بات چیت ہو رہی ہے۔ آج پاکستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی اور ہم بھی چاہتے ہیں افغانستان کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف قطعی استعمال نہ ہو۔  انہوں نے کہا ایران کی امریکی پالیسی میں انقلابی ’’یوٹرن‘‘ آ چکا ہے۔ آج ایران امریکہ کا لاڈلا ملک بن چکا ہے۔ اس کے اثرات یقیناً عراق اور افغانستان میں پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کشمیر کاز پر بھارت کا کردار ہمیشہ منافقت سے بھرپور رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف دراندازی کے تسلسل سے الزامات عائد کر کے دراصل آزادی کشمیر کی تحریک کو نقصان پہنچا دیا گیا ہے۔ فوج  کے احتساب سے قبل ہمیں عوام کو معاشی طور پر آسودہ حال کرنا ہو گا وگرنہ عوام کسی بھی احتسابی عمل کی حمایت نہیں کریں گے۔