چور دروازے سے نہیں آیا تھا،غیرآئینی طور پر ہٹایا گیا: گیلانی

ملتان (نمائندہ نوائے وقت/ اے پی اے) سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے انہیں غیرآئینی کام کے لئے کہا گیا، انہیں آئینی طریقے سے کوئی نہیں ہٹا سکتا تھا۔ ملتان میں پیپلزپارٹی کے ناراض ایم پی اے احمد حسین ڈیہڑ کو منانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا وہ تین مرتبہ عدالتوں میں پیش ہوئے مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، پاکستان کی پارلیمنٹ نے پہلی مرتبہ متفقہ طور پر وزیراعظم بنایا۔ انہوں نے کہا وہ وزارت عظمیٰ قربان کرکے عوام میں آ گئے ہیں، سینٹ میں پارٹی کی اکثریت ہے آدھی حکومت پہلے ہی بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا الیکشن وقت پر ہونگے، مخلوط حکومت بنے گی اور کسی کو اکثریت حاصل نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا عوامی مینڈیٹ کے برخلاف مجھے غیر آئینی طور پر ہٹایا گیا مگر اس کے باوجود بھی خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ عوام کے پاس آیا ہوں وگرنہ مجھ سے پہلے جتنے وزیراعظم اقتدار سے ہٹائے گئے وہ یا تو اوپر جاتے تھے‘ باہر جاتے تھے یا اندر جاتے تھے۔ انہوں نے کہا عوام نے مجھے 5 سال کیلئے مینڈیٹ دیا تھا میں کوئی چور دروازے سے اقتدار میں نہیں آیا تھا مگر سوا چار سال بعد مجھے غیر آئینی طور پر ہٹایا گیا، عدلیہ کے احترام میں تین مرتبہ عدالت میں خود چل کر گیا اس سے پہلے اسکی مثال نہیں ملتی مگر اس کے باوجود خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ مجھے عوام میں آنے کا موقع ملا۔ مجھے سرائیکی صوبہ کی آواز بلند کرنے کی سزا دی گئی۔ سرائیکی صوبہ کا قیام وقت اور اس خطہ کے عوام کی ضرورت ہے جس کے قیام کی منزل قریب ہے۔ انہوں نے کہا وہ عوام کے مسائل سے آگاہ ہیں اور یقین دلاتے ہیں حلقہ کے عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔ مزید برآں سابق وزیراعظم کی آمد پر احمد حسین ڈیہڑ نے پیپلزپارٹی چھوڑنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے گیلانی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کر دیا۔