کھلے دودھ پر 5 سالوں میں مکمل پابندی عائد کرنے کیلئے تیاریاں شروع

کھلے دودھ پر 5 سالوں میں مکمل پابندی عائد کرنے کیلئے تیاریاں شروع

ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کھلے دودھ پر مکمل پابندی عائد کرنے کے لئے پاسچرائزیشن قانون پاس کروانے کے بعد اب پاسچرائزیشن عمل کو لاگو کرنے کے لئے تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے اس سلسلے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی اور یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈ اینیمل سائنسز کے زیر اہتمام پاسچرائزیشن کے حوالے سے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا جس میں کھلے دودھ پر پابندی کی تائید پاسچرائزیشن عمل اپنانے اور اس حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز نے اپنا اپنا کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا مشاورتی اجلا س میں پاسچرائزیشن عمل کو ہی کھلے دودھ کا واحد متبادل تسلیم کرتے ہوئے پنجاب فوڈ اتھارٹی پاسچرائزیشن قانون کی مکمل تائید کی گئی اور آئندہ 5 سال کے اندر کھلے غیر معیاری دودھ پر مکمل پابندی لگانے کی حمایت کی اور عوام کو حفظان صحت کے مطابق معیاری دودھ بہترین پیکنگ میں مہیا کرنے کے لئے اجتماعی کوشش کرنے پر اتفاق کیا اجلاس کی صدارت ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل اور وائس چانسلر یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈ اینیمل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر طلعت محمود پاشا‘ ملک انڈسٹری بشمول نیسلے‘ اینگرو‘ حلیب‘ ملک پیک‘ فارمر ایسوسی ایشنز‘ پیکنگ انڈسٹری اور دیگر ماہرین نے شرکت کی اس حوالے سے ڈی جی فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل کا کہنا تھا کہ پاسچرائزیشن کا عمل ہی کھلے دودھ کا واحد متبادل ہے جس کے ذریعے عوام کو خالص صحت مند اور معیاری دودھ کی فراہمی ممکن ہے۔ پاسچرائزڈ دودھ ابال کر پیک کیا جاتا ہے اور محفوظ طریقے سے صارف تک پہنچتا ہے اس موقع پر وی سی یو واس ڈاکٹر طلعت محمود پاشا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں پاسچرائزیشن کا عمل اپنایا جا چکا ہے اور پاکستان مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام سٹیک ہولڈرز اپنا کردار ادا کریں تو پاسچرائزیشن عمل کو لانا مشکل نہیں ہے۔