مجھے استثنیٰ حاصل ہے، کسی میں جرات ہے تو گرفتار کرلے، یوسف گیلانی

ملتان (آئی این پی) سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ آئین کے تحت منتخب وزیراعظم کو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، مانگوں گا نہیں ،کسی میں جرا¿ت ہے تو گرفتار کر لے، کسی عدالت یا ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوں گا۔ تمام ائرچیف، جوائنٹ چیف، آرمی چیف میں نے لگائے اور ڈیڑھ لاکھ تقرریاں کیں، اگر پاو¿ں نہیں کانپتے تو پھر اسکی انکوائری کر کے دکھائیں۔ 12 اکتوبر کے واقعہ کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا ہم نے اس حوالے سے ریفرنس دائر کیا عوام آج عدلیہ سے پوچھتے ہیں کہ اس کیس کاکیا بنا ہے۔ صدر کیخلاف خط لکھنے کیلئے میرا ہاتھ مروڑنے کی کوشش کی گئی مگر میں نے سپریم کورٹ کا غیرآئینی حکم ماننے سے انکار کردیا۔ وہ پیپلز لائرز فورم کے زیراہتمام ہائیکورٹ بار ہال میں 5 جولائی پر یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ 5 جولائی کو ایک آمر نے حکومت کا تختہ الٹ کر منتخب وزیراعظم کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا اور پاکستان کے عوام کی تذلیل کی۔ انہوں نے کہا ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی نہ دی جاتی تو ملک کی تاریخ آج کچھ اور ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کا نام روشن کیا۔انہوں نے کہا کہ بھٹو کا عدالتی قتل ہوا اس لئے ہم نے ریفرنس دائر کیا اور آج عوام عدلیہ سے پوچھ رہے ہیں کہ بھٹو کے کیس کا کیا بنا۔انہوں نے کہا کہ مشرف سے ہمیں کوئی ہمدردی نہیں ہے ہمیں ہمدردی صرف ذوالفقار علی بھٹو سے ہے انہوں نے کہا کہ ایک منتخب وزیراعظم کو برطرف کرنے پر عدلیہ بھی آرٹیکل 6 کی زد میں آتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ آج کہتے ہیں کہ دوسرا خط کیوں لکھا گیا میں کہتا ہوں کہ پہلا خط بھی غلط لکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک اور غیر آئینی اقدام ہونے والا ہے۔ وزیراعظم کو آرٹیکل 248کے تحت استثنیٰ حاصل ہوتا ہے اور میں نے ڈیرھ لاکھ فیصلے کئے اور ہر فیصلے پر مجھے کورٹ طلب کر لے تو کیا میرا استثنیٰ متاثر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ معلوم ہو کہ وزیراعظم کو ہر فیصلے پر عدالت طلب کرے گی تو کوئی بھی وزیراعظم بننے کو تیا ر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا مجھے پتہ چلا کہ ایف آئی اے مجھے بلا رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود ایف آئی اے اصغر خان کیس میں ان لوگوں کے پیچھے کیوں نہیں جارہی جن کے نام لسٹ میں ہیں۔ ایک متعصب شخص کو میرا انکوائری افسر بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ایئر چیف ، جوائنٹ چیف ، آرمی چیف میں نے لگائے ان کی بھی انکوائری کرکے دکھائیں ان کے پاو¿ں کانپیں گے اس لئے کہ یہ خود کو مقدس گائے سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہر کیس میں ججز کوبلانا شروع کر دیا جائے تو ملک کیسے چلے گا۔ یہاں حالت یہ ہے کہ ایک ایک سول جج فیصلہ دیتا ہے تو سیشن کورٹ اڑا دیتی ہے ۔ سیشن جج فیصلہ دیتا ہے تو ہائیکورٹ اڑا دیتی ہے اور ہائیکورٹ فیصلہ دیتی ہے تو سپریم کورٹ اڑا دیتی ہے اور سپریم کورٹ فیصلہ دیتی ہے تو سپریم کورٹ خود ہی ریویو میں چلی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کل عدالت نے کہا ہے کہ استثنیٰ مانگا جاتا ہے۔میں نے تو صدر مملکت کے لئے بھی استثنیٰ نہیں مانگا تھا۔انہوں نے کہا ویانا کنونشن اور 248کے تحت صدر کو استثنیٰ ہوتا ہے اور جب سپریم کورٹ نے مجھے گھر بھیج دیا تو بعد میں دوسرے خط کے معاملے پر سپریم کورٹ منت پر آگئی کہ کوئی درمیانی راستہ نکالیںکیونکہ مجھے گھر بھیجنے سے پوری دنیا میں رسوائی ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ آئین پاکستان کے تحت مجھے استثنیٰ حاصل ہے میں مانگنے نہیں آو¿ں گا۔ اگر کسی میں جرا¿ت ہے تو مجھے گرفتار کر لے ۔ میں گرفتاری کو ترجیح دوں گا کسی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کروں گا۔یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں نہ ان کا صدر زرداری سے کوئی اختلاف ہے۔