پسند کی شادی ‘ لڑکی کے رشتے داروں نے لڑکا اغوا کر لیا‘ لواحقین کا احتجاج

پسند کی شادی ‘ لڑکی کے رشتے داروں نے لڑکا اغوا کر لیا‘ لواحقین کا احتجاج

کہروڑپکا(خبر نگار)پسند کی شادی کا بھیانک انجام ۔دوشیزہ کے رشتہ دوروں نے اسلحہ کے زور پر دن دیہاڑے اغوا ءکر لیا ۔تھانیدار اغواءکاروں کا کا سر پرست نکلا ۔مغوی کے بوڑھے والدین کو دھکے دے کر تھانہ سے بھگا دیااہل علاقہ کا احتجاج ۔تفصیلا ت کے مطابق موضع کنڈ احمد حسن کے کا شتکار خان محمد کا 22سالہ بیٹافاروق احمداپنی والدہ کلثوم مائی کی ویرسی واہن سے دوائی لیکر موٹر سائیکل پر ساڑھے تین بجے کے قریب حیدر شاہ والہ باغ کے مقام پر سفید رنگ کی گاڑی نے تعاقب کرتے ہوئے راستہ روک لیا گاڑی میں سے 4مسلح افراد باہر نکلے جنہوں نے فاروق احمد کو پکڑ لیا ور منہ پر تھپڑ مارنا شروع کر دیئے اس کی والدہ نے چھڑوانے کی کو شش کی تو ملزمان نے اس کو دھکے مارے بیمار اور لاغر ماں دھکے برداشت نہ کر سکی اور گر کر بے ہو ش ہو گئی ملزمان نو جوان کو زبردستی قتل کرنے کی غرض سے اغوا ءکر کے کار میں ڈال کر فرار ہوگئے مغوی کے بوڑھے والدین مقدمہ درج کروانے کیلئے تھانہ صدر کہروڑپکا پہنچے تو ظالم تھا نیدار عبد الغفارجوئیہ نے انہیں غلیظ گالیاں دیتے ہوئے بے عزت کر کے تھانہ سے نکال دیا ۔گذشتہ روز مغوی کے والدین خان محمد ،کلثوم بی بی ،بھائیوں محمد فیاض ،مقبول احمد ،ریاض احمد اور مغوی کی بہنوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مغوی نے کچھ عرصہ قبل عارف والہ کے زمیندار عبدالرزاق بھٹی کی بیٹی فو زیہ بی بی سے پسند کی شادی کی تھی دوشیزہ کے ورثاءنے بااثر جا گیر داروں سے دباﺅ ڈلواکر فوزیہ بی بی کو واپسی کروادیا تھا۔تھا نہ رنگ شاہ میں اغوا ءو زنا ءکے الزام میں مغوی اور اسکے خاندان کے خلاف مقدمہ درج کرو ایا تھا ۔جو کہ جھوٹا ہونے پر عدالت کے حکم پر خا رج ہو چکا ہے ۔فوزیہ بی بی جاگیر داررشتہ دار وں بشیر احمد بھٹی ،رفیق بھٹی ،عبد الوحید بھٹی نے ایک نامعلوم ساتھی کے ساتھ مل کر ہمارے لخت جگر کو قتل کرنے کی غرض سے اغواءکیا ہے اور ہمیں خطرہ ہے کہ جاگیر داروں نے مغوی کو قتل نہ کر دیا ہو ۔لواحقین نے الزام عائد کیا کہ ہم مقدمہ درج کروانے کے لئے تھانہ صدر کہروڑپکا پہنچے تو ظالم تھا نیدار عبدالغفار جوئیہ نے بوڑھے والدین کو دھکے دیکر بے عزت کر کے تھا نہ سے بھگا دیا اور برملا کہا کہ تمہارا لڑکا جاگیر داروں کی بیٹی سے پسند کی شادی نہ کر تا رو ہ کیوں اغوا کرتے ۔اور جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دینے لگا ۔تھانیدار عبدالغفار جوئیہ ملزمان کا سر پرست بن چکا ہے ۔اور بھاری رشوت لے کر مقدمہ درج نہیں کر نا چا ہتا ۔اس مو قع پردرجنوں افراد ملک عبد الغفار ،زاہد حسین ،عبدالجبا ر ،محمد آصف ،محمد عامر حفیظ احمد،منظور احمد ،محمد صفدر ،مختیار احمد ،اللہ بخش ،محمد حنیف ،اللہ ڈتہ ،محمد فیاض ،امام بخش ،محمد اسلم ،عبدا لعزیز ،محمد اظہر ،محمد صابر ،سیف اللہ ،محمد قاسم ،شیر محمد ،بشیر احمد ،حافظ الہٰی بخش،محمد شریف ،محمد سجاد محمد صدیق وغیر ہ نے ٹائروں کو آگ لگا کر خیر پور رو ڈ کو بلاک کر دیا اور شدید احتجاج کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعلیٰ پنجاب ،آئی جی پنجاب ،آر پی او ملتان ،ڈی پی او لودھراں سے اپیل کی کہ مقدمہ درج کر کے ملزمان کو ٹریس کیا جائے اور مغوی کو فوری برآمد کیا جائے بصورت دیگر ہم وزیر اعلیٰ ہاﺅس لاہور تک پیدل مارچ کریں گے دھرنا دیں گے اور احتجاج کریں گے ۔