شاہد خاقان عباس کی پالیسیوں کی بدولت ادارہ خسارے میں گیا‘ سیاسی بھرتی بھی وجہ ہے: جاوید چودھری

شاہد خاقان عباس کی پالیسیوں کی بدولت ادارہ خسارے میں گیا‘ سیاسی بھرتی بھی وجہ ہے: جاوید چودھری

ملتان (خاتون رپورٹر) پیپلز یونٹی پی آئی اے کے مرکزی رہنما اور جوائنٹ سیکرٹری پی سی جاوید چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن (پی آئی اے) کو 250 ارب روپے خسارے کا سامان ہے ادارے کو سنبھالنے کےلئے فوری طور پر 40ارب روپے کا بیل آ¶ٹ پیکج کی ضرورت ہے اگر یہ رقم بروقت مل جائے تو ملازمین پی آئی اے کو دو ماہ کے اندر منافع میں لے جا سکتے ہیں ۔ وہ گزشتہ روز ملتان آمد پر نوائے وقت سے خصوصی گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے 1992 سے قبل منافع بخش ادارہ تھا لیکن سابق چیئرمین پی آئی اے شاہد خاقان عباسی کی غلط پالیسیوں کی بدولت ادارہ خسارے میں چلا گیا۔اس کے علاوہ سیاسی بھرتیوں کی بھرمار بھی وجہ بنی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اٹھارہ طیارے کام کر رہے ہیں باقی گرا¶نڈ ہیں ہر دور میں نئے طیارے خریدنے کے بجائے دیگر ممالک سے پرانے طیارے خریدنے کو ترجیح دی گئی صرف کمیشن کی خاطر ناکارہ طیارے خریدے گئے۔ دنیا بھر میں چھوٹے طیارے اور فوکر جہاز گرا¶نڈ کردئیے گئے ہیں اور ہم نے بھی کئی برس قبل حکام کو فوکر گرا¶نڈ کرنے کو کہا لیکن ہماری ایک نہ سنی گئی جس کا خمیازہ ملتان میں فوکر طیارے کے حادثے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ پیپلز یونٹی نے پی آئی اے میں سات میں سے چھ ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کی یونٹی ملازمین کے حقوق کی خاطر آواز بلند کرتی رہتی ہے ہم پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سابق چیئرمین پی آئی اے اعجاز ہارون کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور ترکش ائیرلائن کو پی آئی اے خریدنے کے راستے میں بڑی رکاوٹ بنے اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کو ہم سے تحریری معاہدہ کرنا پڑا جس میں پی آئی اے کی نجکاری نہ کرنے اور اعجاز ہارون کو برطرف کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یونٹی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات استوار رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور ہم پی آئی اے اور مزدوروں کی ترقی کےلئے حکومت کے اچھے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کراچی لاہور میں ائیرلیگ کے کارکنوں نے پیپلز یونٹی کے کارکنوں کے ساتھ غنڈہ گردی کی جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پی آئی اے کےلئے 40 ارب روپے کا بیل آ¶ٹ پیکج اور مزدوروں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے کا اعلان کرے۔